تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 29
لوگوں سے تکالیف پہنچیں مگر آپ نے ہمیشہ صبر کیا اور دکھ دینے والوں سے نیکی اور احسان کیا۔حضرت مصلح موعود اور خاندان حضرت مسیح موعود اور بزرگان سلسلہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔جب آپ دوران ملازمت ملتان میں قیام فرما تھے حضرت ام المؤمنین رضی اللہ کا پانچ مرتبہ آپ کے گھر تشریف لائیں۔عسر و لیٹر دونوں حالتیں آپ پر آئیں مگر آپ میں شفقت علی خلق اللہ، انفاق فی سبیل اللہ اور مہمان نوازی کے اوصات بدستور قائم رہے۔مفوضہ کام نہایت تو قبہ اور محنت سے انجام دیتے آپ کی دیا خدارسی اپنوں اور بیگانوں میں مسلم تھی۔۱۹۳۸ء میں نیشن ملی تو قادیان آگئے اور ۱۹۴۰ء میں محلہ دار الفضل میں ہجرت اور وفات اپنا مکان بنا لیا۔قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۷ء میں قادیان سے آکر ملتان میں پناہ گزین ہوئے اور ہم راہ فتح ۳۳۰ اہش / ۲ دسمبر ۱۹۵۷ء کو وفات پائی اور ربوہ ہیں دفن کئے گئے لیے ۱- صفیه خانم صاحبہ اہلیہ اخوند محد عبد القادر خان صاحب ایم۔اے مرحوم ریٹائرڈ پروفیسر اولاد تعلیم الاسلام کا لج ربوده بشری خانم مرحومه (بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفونی ) -۳- اخوند فیاض احمد خان صاحب حال منیجر سیلز انٹر ہام لمیٹڈ لاہور۔ثریا خانم صاحبہ اہلیہ ضیاء الرحمن صدیقی صاحب ملتان رضیه خانم صاحبہ اہلیہ پر وفیسر حفیظ احمد اعوان صاحب خانپور (ضلع رحیم یار خان) - آصفہ خانم صاحبہ اہلیہ پر وفیسر نا صراحمد صاحب پشاور ناصر - فرحت خانم صاحبه - اخوند ریاض احمد خان صاحب ایم ایس سی۔حال ربوہ۔- - حضرت ملک برکت علی صاحب والد ماجد خالد مدنی علی عبدالامین مانده گرانی ولادت قریباً ۶۱۸۶۹ء - تحریری بیعت ۱۸۹۷ ء - دستی بیشت ۲-۶۱۹۰۱ له الفضل ۲۸ اضاء ۱۳۳۱ بیش صد : که روایات صحابه جلد لا من منه له افضل بر صلح ۳۳۱ ایش حث: نه روایات صحابہ جلد عنا من منٹو