تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 401
۳۹۲ پر مبارکباد دی اور بہت متاثر ہوئے۔آپ کی مندرجہ ذیل کتابوں کو بھی خاصی شہرت حاصل ہوئی:۔باوا نانک کا مذہب، دھرم کی کسوٹی، آریہ دھرم کا فوٹو مسلمانوں کے احسانات سکھوں پر قدیم ہندوستان کی روحانی تعلیم، گرو کی پانی سومنگلا ناول اس کو مسلم اتحاد، با وا نانک کی سوانح عمری فتح مبیں، سکھ اور مسلمان ، آریہ مذہب کی حقیقت، برکات اسلام، آریہ دھرم کا پول ، ست اپریشن، رو تناسخ به آپ اسلام کے کامیاب مبلغ و مناظر تھے ہندوستان کی متعد دو اسلامی تقاریر اور مناظر سے انجنوں نے آپ کو اپنے جلسوں میں تقریر کے لئے خاص طور پر دھو گیا۔شمالی ہند میں مسلمانوں کی قدیم انجمن انجمن حمایت اسلام کے پلیٹ فارم سے آپ کی کئی تقریر میں ہوئیں اور پسند کی گئیں۔ملک میں آپ کے کئی زبانی اور تحریری مناظرے ہندوؤں اور سکھوں سے ہوئے۔اپنی شہر میں زبانی سے مخالفین اسلام تک کے ولیوں کو موہ لیتے تھے یکے باوجود یکہ آپ سکھوں سے مسلمان ہوئے اور تمام عمر سکھوں کو اسلام کی غیر مسلموں کے تاثرات مدرن بجاتے رہے کہ حلقوں میں بھی آپ کو خاص عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور سکھ ود وانوں نے آپ کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا۔چنانچہ اخبار است (جالندھر) نے ارمئی ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں لکھا:۔"آپ نے قرآن شریف کا پنجابی میں ترجمہ کیا اور متعدد کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔اس سے بڑھ کر قابل تعریف کام انہوں نے سیکھے مسلم اتحاد کے لئے کیا یہ لکھا:۔۲ سردار جنگ بہادر صاحب ایڈیٹر اخبار شیر پنجاب دہلی میور رقصه ۲۲ ر جوان ۱۹۵۲ء) نے " وہ اپنے اخبار نور کے ہر ہر بچہ میں سکھوں سے اُنس اور محبت کرتے رہے اور انہیں سکھ حلقوں میں محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔احمدیت کے وہ ایک عظیم الشان مبلغ اور پیرو کار تھے۔۔۔آپ نے قرآن ه ان کتابوں کے نام جناب میاں عبد العظیم صاحب درویش و تاجر کتب قادیان کے رسالہ واذا لصحف نشرت میں بھی مذکور ہیں : ته الفصل ۱۳ ہجرت ۱۳۳۱ مش مث ا مضمون قاضی محمد نور الدین صاحب المل عضم