تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 402
۳۹۳ کا پنجابی اور ہندی میں ترجمہ کیا اور بہت قابل اور دوست نوازہ انسان تھے۔ان کا انتقال جماعت احمدیہ اور ان کے دوستوں کے لئے ایک افسوسناک سانحہ ہے" ۳۔سردار رویل سنگھ صاحب گیانی ہیڈ ماسٹر پرائمری سکول موضع رتن گڑھ ضلع انبالہ نے سکتے لٹریچر کے ممتاز سکالر گیانی عباداللہ صاحب کو اپنی پیٹھی مورخہ ہم امینی ۱۹۵۳ء میں تحریر کیا۔سردار صاحب موصوف بہت بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔لیکن اُن کا دیدار نہ کر سکا لیکن اُن کے مضامین سے اُن کی رُوح کا بخوبی پتہ چل جاتا تھا۔سکھ مسلم ایکتا ان کی زندگی کا مقصد تھا۔نہ صرف اخبار لوییں وفات پا گیا ہے بلکہ یہ مسلم ایکتا کا بڑا حامی اس دنیا سے کوچ کر گیا ہے اور اس سے صحافت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔سردار صاحب موصوف اخبار نور کے متعد د ر ہے ہندوستانی سیکھوں میں مفت تقسیم کرتے تھے ان کا مقصد سکھ مسلم اتحاد تھا۔انہوں نے اسلام کی خوبیاں شائع کر کے غیر مسلموں خاص کر سکتھوں میں اسلام کی بہت عزت بڑھائی ہے اس طرح انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔اور جہاں وہ اسلام کے بڑے خدمت گار تھے وہاں سکھ مسلم اتحاد کے بھی بڑے حامی تھے۔قرآن شریف کا پنجابی ترجمہ کر کے انہوں نے قوم کی بڑی خدمت کی ہے پہلے ترجمہ از گورکھی ۲ حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب تو مسلم (سابق مہر سنگھ ) : (ولادت اندازاً ۱۸۷۲ ۶ - بیعت و زیارت دسمبر ۶۱۸۹۰- وفات ام احسان ۱۳۳۱ ش / جون ۶۱۹۵۲ حضرت ماسٹر صاحب نے بھی ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔چوتھی جماعت میں پڑھتے ریت قبول اسلام تھے کہ مجد و با طور پرخدا کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔مجذوبا مسلمان ہونے کے بعد آپ نے حضرت حکیم الامت حاجی الحرمین مولانا نورالدین دو تعلیم و لازمت م ال ان کی سیاست اور ان میں سے جو پھر یرہ میں سیونی یک تعلیم پائی اور ایف اے کا امتحان پرائیویٹ طور پر قادیان دار الامان میں پاس کیا۔۱۳ جولائی ۱۹۰۰ ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے اسٹاف میں پیش روپے مشاہرہ پر شامل ہو گئے اور ایک لمبے عرصہ تک ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ میں تعلیمی و تدریسی خدمات بجالانے کے بعد ریٹائر ڈ ہوئے۔له الفضل ۱۳ طور ۳۳۱ اصل مضمون جناب گیانی عباد اللہ صاحب )