تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 393
۳۸۴ » ) س ہفت روزہ اقدام لاہور کے درجنوری ۱۹۵۳ء کے پر سیر میں احمدیوں کا ات رام لاہور اجتماع کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ چھپا :- و چنیوٹ سے چھ میل کے فاصلے پر چناب کے کنارے کالے کالے جیب پہاڑوں کے درمیان حیات ستھرے مکانوں کی ایک نئی بستی آباد ہو رہی ہے بریستی جماعت احمدیہ پاکستان کا مرکز ہے اور ڈیوٹ کے نام سے مشہور ہے۔ہر چند کہ بستی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں سے گزر رہی ہے پھر بھی اس درجہ اہمیت حاصل کر چکی ہے کہ اس کا اپنا ریلوے اسٹیشن، لاریوں کا اڈہ ، پوسٹ آفس، پبلک کال آفس اور تار گھر بھی معرض وجود میں آچکا ہے۔ہر سال دسمبر کے آخرمیں یہاں جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ منعقد ہوتا ہے۔پاکستان کے کونے کونے سے احمدی یہاں کچے پھلے آتے ہیں اور وہ چہل پہل ہوتی ہے کہ اس خاموش بستی کے ذرے ذرے میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور کثرت اثر دہام سے گردو غبار کے بادل اُٹھ اُٹھ کر دور دراز سے گزرنے والے راہگیروں کو اپنی طرف متوجہ کئے بغیر نہیں رہتے۔اس مرتبہ جہاں ہزاروں احمدی عقیدہ ربوہ میں آجمع ہوئے تھے وہاں مجھے جیسا سیدھا سادا مسلمان بھی بیا براجمان ہوا۔میرا خیال تھا کہ انتہائی شدید مخالفت کے باعث اب اس جماعت کے حوصلے کست ہو چکے ہوں گے اور اس مرتبہ جلسہ پر وہ رواق نہیں ہوگی جوہمیشہ سنتے ہیں آتی ہے لیکن مجمع دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔جب لیکن وہاں پہنچا تو جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد جلسہ کا افتتاح کرنے کے لئے جلسہ گاہ میں پہنچ چکے تھے اور اپنی تقریر کے ابتدائی فقر سے زبان سے اورا فرما رہے تھے جلسہ گاہ ہر قسم کے شان و شکوہ سے بالکل عاری تھی۔ایک معمولی سی حد بندی کے وسیع احاطے میں خوش پوش لوگ ہزاروں کی تعداد میں بیٹھے ہوئے تھے بیٹھنے کے لئے دریوں تک کا انتظام نہ تھا۔مٹی پر مٹی ہی کے رنگ کی پرالی پھیلی ہوئی تھی جس پر مرزا صاحب کے ہزاروں مرید نے بے تکلف میٹھے ہمہ تن گوش بنے جلسہ سن رہے تھے۔البتہ اسٹیج پر جو جلسہ گاہ کی مناسبت سے اچھا خاصہ وسیلے تھا دریاں بچھی ہوئی تھیں بیٹیج اور پبلک کے درمیان آجکل کے فیشن کے مطابق کافی فاصلہ تھا جو غالباً حفاظت کے پیش نظر چھوڑا گیا تھا۔