تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 388 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 388

٣٤٩ کوئی انہیں ضبط کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا ہم تو کہتے ہیں کہ بے شک الفضل کا وہ پر پر ضبط کر لو حس میں ان کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے بہتر طیکہ ان کتابوں کو بھی ضبط کرو تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت قائم ہو۔حضور نے اس قلقہ کے ازالہ کے لئے خاص طور پر اللہ تعالی کے حضور دعاؤں کی خاص تحریک دعائی کرنے کی تحری فرمائی حضور نے اس سلسل میں ارشاد فرمایا کہ احباب ۱۹۵۳ء کے شروع میں سات روزے رکھیں اور خاص طور پر دعائیں کریں کہ اللہ تعالی ملک میں فتنہ پھیلانے والوں اور ہم پر ظلم کرنے والوں کو سمجھ دے یا سزا دے اور ہمیں ان کے مظالم پر صبر کرنیکی توفیق دے اور اپنے مقاصد میں کامیاب کرے۔یہ سات روزے جنوری سے شروع کئے جائیں اور ہر سوموار کو رکھے جائیں جنوری میں یہ روزے ۱۲،۵ ، ۱۹ اور ۲۲ تاریخ کو آئیں گے اور فروری میں ۲، ۹ اور ۱۶ تاریخ کو۔حضور نے عالم اسلام کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایایہ عالم اسلام کے مسائل مختلف ممال میں مسلمانوں کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں مثلاً ایران، مصر، انڈونیشیا، عراق اور اُردن کے سیاسی حالات میں نئی نئی تبدیلیاں اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں ٹیونس اور مرا کو کے مسلمان آزادی کی عہد و جہد کر رہے ہیں لیکن کبھتا ہوں کہ اسلامی ممالک کے مسلمانوں کی مدہم دعا اور احتجاج سے تو کرتے ہی رہتے ہیں مگر ایک مسئلہ ایسا ہے جسکے متعلق ہماری حکومت کو بھی ضرور کوئی عملی کاروائی کرنی چاہیئے اور وہ ہے فلسطین میں یہودیوں کے اقتدار کا مسئلہ بود مسلمانوں کے شدید دشمن ہیں اور انہوں نے ایک ایسے ملک میں اپنی مادر فلسطین امارت قائم کیا ہے جو مار سے مقدس ترین اور حکومت قائم کر لی ہے جو ہمارے مقدس ترین مقامات یعنی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سے بہت قریب ہے۔ان کے ارادے یقیناً بہت خطرناک ہیں اس لیئے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو ضرور مجموعی طور پر کوئی عملی قدم اٹھانا چاہئیے کی بجھتا ہوں اگر تمام اسلامی ملک اس خطرے کے ازالہ کے لئے اپنے اپنے بجٹ کا پانچ فیصدی بھی مخصوص کر دیں تو ایک اتنی بڑی رقم جمع ہو سکتی ہے جس سے ہم بیودیوں کی بڑھتی ہوئی مشرارتوں کا عملا مستقر باب کر سکتے ہیں۔اس مسئلہ