تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 387
۳۷۸ خود ہی میں الزام کی ترویز کے لئے کافی ہے کیونکہ بیان کردہ مقدار کبھی ایک بٹالین کو مل ہی نہیں سکتی ہے ہمارے پاس فوجی حکام کی باقاعدہ رسید موجود ہے کہ فرقان فورس نے جو ہتھیار اور وردیاں وغیرہ حاصل کیں وہ سب کی سب واپس دے دی گئیں اور کوئی چیز بھی ان کے پاس باقی نہیں رہی۔ایسے الزام لگانے والوں کو علم ہی نہیں کہ فوج کا ایک خاص نظام ہوتا ہے اس میں ہر چیز کا ریکارڈ اور حساب ہوتا ہے۔وہ کوئی احراریوں کا لیا ہوا چندہ نہیں ہوتا کہ جس کے پاس آیا اسی کی جبیب میں چلا گیا۔(س) حکومت کا جو ملازم کسی الزام میں ملوث ہو اُسے احمدی مشہور کہ دیا جاتا ہے حالانکہ اس کا احمد ایں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔(۳) کہا جاتا ہے کہ احمدی غیر احمدی لڑکوں کو بھگا کہ ربوہ لے آتے ہیں یہ الزام بھی صریح جھوٹ ہے چنا نچہ عالی ہی میں جیب ایک اسی قسم کا الزام لگایا گیا تو پولیس نے اس کی تحقیقات کی اور اسے بالکل بے بنیا د پایا۔(۴) احمدیت سے برگشتہ ہونے کی خبریں مشہور کر دی جاتی ہیں حالانکہ ان میں سے اکثر غلط ہوتی ہیں چنانچہ میں لوگوں کے متعلق ایسی خبریں شائع کی گئیں ان میں سے اکثر کو تو لیکن امین وقت بھی اپنے سامنے بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔بھلا ظلم و تشدد اور جبر کے ساتھ بھی سچائی کسی کے دل سے نکلا کرتی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس فتنے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ثابت قدم رہی ہے۔چندایکی کزور لوگوں نے اگر تشدد او ظلم سے ڈر کر کمزوری دکھائی بھی تو بہت جلد اپنی حرکت پر وہ نادم ہوئے اور واپس آگئے۔اور اس قسم کے کمزور لوگ تو ہر جماعت میں ہوتے ہی ہیں۔(۵) کہا جاتا ہے کہ ہم نے چونکہ پرانی کتابوں میں سے ایسے حوالوں کی طرف مسلمانوں کو تو یہ دلائی ہے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء کی ہتک کی گئی ہے لہذا ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی ہے۔حالانکہ اگر ہم نے صرف ان حوالوں کا ذکر کیا اور وہ قابل ضبط ہے تو ں کتا بیں کیوں نہیں قابل ضبط سمجھی جاتیں جن میں یہ بہتک کی گئی ہے ؟ کیا صرف اس لئے کہ وہ باتیں لکھنے والے وہ لوگ ہیں جومسلمانوں میں چوٹی کے عالم اور بزرگ سمجھے جاتے ہیں ؟ کیا حقیقت نہیں کہ آج بھی یہ کتا بیں مسلمانوں کے دینی مدارس اور خود پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں شامل نہیں جگر