تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 382 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 382

قرار دیا اور ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی۔کراچی میں چونکہ بیرونی ممالک کے سفیر بھی موجود ہوتے ہیں اس لئے جب انہوں نے یہ حالات دیکھے تو ان پر یہ اثر ہوا اور اسی اثر کے ماتحت انہوں نے اپنے اپنے ملک میں رپورٹیں بیچیں کہ احمدی جماعت ایک فعال جماعت ہے اور مولویوں کا طبقہ محض اعتقادی انتقالات پر عوام کو مشتعل کر رہا ہے وہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہو رہا ہے اور مذہبی تعصب کو ہوا دیکر اسے ایک تنگ نظر ملک بنانا چاہتا ہے۔ان میں سے بعض نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان ایک ترقی کرنے والا ملک ہے مگر اس مہنگا مے کو دیکھ کر پاکستان کی ترقی کے متعلق ہمارے دل میں شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔گویا انہوں نے سمجھا کہ شاید یہی مولوی ملک کی آواز ہیں حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔یہ لوگ پاکستان کا ایک چھوٹا سا جز و تو سمجھے جا سکتے ہیں مگر انہیں پاکستان کا دل قرار نہیں دیا جا سکتا پاکستان کا دل اور ہے۔بے شک لوگ وقتی اشتعال کے ماتحت ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں مگر ملک کی حقیقی آواز ہر گز وہ نہیں ہے جو یہ لوگ بلند کرتے ہیں پس اس فتنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ غیر مالک میں ہمیں متعارف ہونے اور انہیں اسلام کی تبلیغ کرنے کا موقع مل گیا، الحمد الله ایک اثر اس فتنہ کا یہ ہوا کہ بنگالی نمائندوں نے اصل حقیقت کو بھانپ لیا اور انہیں علم ہو گیا کہ اہل عرض افراد مذہب کی آڑ میں سیاسی چالیں چل رہے ہیں چنا نچہ بنگال کے اخبارات میں سے سوائے ایک دو کے باقی سب نے ہی لکھا کہ ہم اس گند کو جو مغربی پاکستان میں پھیلایا جا رہا ہے ہرگز بنگال میں نہیں آنے دیں گے۔کراچی کے فساد کا ایک اور اثر یہ ہوا کہ ملک کے شریف اور سنجیدہ لیڈروں نے ان لوگوں کو سمجھانا شروع کیا جو کسی نہ کسی رنگ میں اس فتنہ سے متاثر ہو رہے تھے اور انہیں اس کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔پھر جب جماعت اسلامی نے جو حکومت کی کھلی مخالف ہے ہماری نیت میں آگے آنا شروع کیا تو سیاسی لیڈروں کی بھی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے محسوس کیا کہ جماعت احمدیہ کے مخالف در اصل اس آڑ میں حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں چنانچہ جلد ہی اس کا ثروت بن گیا اور وہی لوگ جو شروع میں ہماری مخالفت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ہمیں سیاست سے یا حکومت کی مخالفت سے کوئی واسطہ ہی نہیں انہوں نے پر ملا حکومت کو دھمکیاں دینی شروع