تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 373
۳۶۴ پھر مبلغین کا سوال ہے کیں متواتر کئی سال سے صدر انجمن احمدیہ کو لکھ رہا ہوں مگر اب تک مبلغین پیدا کرنے کی طرف ہر گز پوری توجہ نہیں ہوئی بہندوستان میں کم سے کم ہمارے دس بارہ علماء موجود ہیں لیکں نے کہا تھا کہ ہر عالم کے ساتھ دو دولڑ کے لگاؤ وہ چھ سات سال میں ان کو عالم بنا کر نکالے اس طرح دس بارہ سال میں تمہارے پاس سینکڑوں علماء ہو جائیں گے لیکن افسوس ہے کہ اس طرف کوئی تو بقیہ نہیں کی گئی۔کہا جاتا ہے کہ خرچ نہیں کیا صحابہ کے پاس خرچ ہوا کرتا تھا ؟ کیاموت کے منہ میں آئی ہوئی قومیں بھٹوں کو دیکھا کرتی ہیں؟ کیا عظیم الشان ارادوں والے لوگ اپنی کوتاہ دامنیوں کا کبھی خیال کیا کرتے ہیں ؟ اپنی مستیوں کو چھوڑو، غفلتوں کو ترک کرو، اپنی تنگ دامنیوں کو بھول جاؤ خدا نے انسان کے دل کو بڑی وسعت دی ہے تم اس وسعت کو دیکھو جو خدا نے تمہارے دل میں پیدا کی ہے۔تم اس کام کو دیکھو جو خدا نے تمہارے سامنے رکھا ہے۔تم بنی نوع انسان کی ان تکلیفوں کو دیکھو جو کہ روحانی طور پر ان کو پہنچ رہی ہیں۔تم مظلوموں کی اُن آوازوں کو سنو جو خدا کا رستہ دکھانے کے لئے کرب اور اضطراب کے ساتھ بلند کی جارہی ہیں اور تم اس بات کو دیکھو کہ تمہارے ان کاموں کو کرنے والا کوئی نہیں۔اور خدا کے ان وعدوں کو دیکھو جو تمہارے لئے کئے گئے ہیں۔اور اپنے اندر ایک عظیم انسان تغیر پیدا کر و جلد سے میلہ علماء پیدا کرو جلد سے جلد تبلیغ کا کام اپنے ہاتھ میں اور جلد سے جلد لٹریچر پیدا کرنے اور اس کو شائع کرنے کی کوشش کرو۔اور تم میں شخص اپنے عمل میں تبدیلی پیدا کرے۔اپنے دل میں محبت الہی پیدا کرے اور اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد کر رہے۔کاش خدا تعالیٰ تمہارے دنوں میں ان باتوں کی عظمت اور اہمیت ڈال دیئے، اور کاش! اس طلبہ پر تم ایک نئے وجو دین کر بجاؤ۔ملک کو روحانی دعوت دینے والے ، ملک کو روحانی ترقی بخشنے والے او پھر ساری دُنیا کے لئے مفید وجود ثابت ہونے والے بن کر جاؤ خدا کے وعدوں کو ساتھ لے کر بجاؤ۔اور خدا کی مدد کو ساتھ لے کر بجاؤ۔اللهم آمین۔۱۸؍ دسمبر ۶۱۹۵۲ مرزا محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی و امام جماعت احمدیه ربوده شده سے ہفت روزه بدر (قادیان) ، صلح ۳۲ اش / جنوری ۱۹۵۳ ، ص ، ص :