تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 358 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 358

۳۵۴ اب تبلیغ جیسے عظیم الشان کام کو جاری کرنے کے لئے سلسلہ احمدیہ نے تحریک جدید بیاری کی ہے لئے جاری کی تا باہر سے لوگ بلوائے جائیں جو یہاں آکر دین سیکھیں اور ان میں سے ایسے لوگ تیار کئے جائیں جو باہر جا کہ لوگوں کو دین سکھائیں یہی قرآن کہتا ہے کہ تم باہر کے لوگوں کو تحریک کرو کہ وہ تمہارے پاس آکر دین سیکھیں اور مرکز میں تم ایک ایسی جماعت تیار کر وجو باہر جائے اور لوگوں کو دین سکھائے تحریک تجدید ان دونوں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔تیرہ سو سال کے عرصہ میں بعد از ز ما در ثبوت صحابہ کے وقت میں مجبوراً اور ان کے بعد مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے ہمیں یہ چیز نظر نہیں آتی۔آج صرف ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق دملی ہے۔یہ کتنا عظیم الشان کام ہے اس ایک کام کی وجہ سے تمہیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے اور تمہارے مقابلہ میں کوئی اور عصر نہیں سکتا ہے ۱ ۱۳۳۱ آرش بر ۱۹۵۲ء کے آخر میں گوجرانوالہ گوجرانوالہ میں احمدیوں کا بائیکاٹ اور الاعتصام میں امالیوں کے خلاف بائیکاٹ کی ایک مہم جاری کر دی گئی جس کی اہلحدین کے ترجمان الاعتصام نے سخت مذمت کی اور اس کے مدیر مسئول مولانا محمد علیف صاحب ندوی نے اقلیت کا مسئلہ اور مقاطعہ کی پالیسی کے زیر عنوان حسب ذیل اداریہ سپر و قلم کیا: و چند ہفتوں سے گوجرانوالہ میں مرزائیوں کے مقاطعہ کی باقاعدہ مہم جاری ہے پہلے تو ہم یہ مجھے کہ شائد یہ کوئی مقامی تحریک ہے، لیکن کتبوں سے جو اس سلسلہ میں دکانوں ، ہوٹلوں اور دیواروں پر آویزاں کئے گئے ہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ اسلامیان پاکستان کا متفقہ فیصلہ ہے۔کتبوں پر اس ڈھنگ کی عبارتیں مرقوم ہیں، مرزائیوں کا بائیکاٹ کرو“ ”مرزائیوں کے کھانے کے برتن الگ ہیں " مرزائیوں کا مقاطعہ اسلامیان پاکستان متحدہ فیصلہ ہے؟ ہمارے نزدیک یہ تحریک قطعا غلط غیر ذمہ دارانہ اور منتر ہے۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے مجلیس عمل نے اس نوعیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا حالانکہ مرزائیت کے خلاف یہی ایک نمائندہ جماعت ہے جیسے کہنے سنے اور مستقل پالیسی وضع کرنے کا حق پہنچتا ہے۔مجلس احرارہ دوسری جماعت ہے اوّل روز سے جس کے مشن میں یہ بات داخل ہے کہ مرزائیت نے میں حسین فتنہ کو پیدا کیا ہے ان کی روک تھام کا اہتمام له یہ الفاظ مٹے ہوئے ہیں : کے روز نامہ الفضل افتح ۱۳۳۱ ش ص ہے