تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 24 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 24

۲۲ دینے سے قاصر رہے جس پر آپ اُن کو چھوڑ کر حضرت مہدی موعود کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔قبول احمدیت کے بعد مخالفت کا سلسلہ لازمی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے قبول احمدیت کے بعد نہ صرف آپ کو ثبات و استقلال بخش بلکہ آپ کے بابرکت وجود سے سیالکوٹ چھاؤنی کی قدیم و فدائی جماعت کو بھی بہت تقویت پہنچی اور آپ کے نیک نمونہ اور تبلینے سے بہت سی سعید رو ھیں حلقہ بگوش احمدیت ہوئیں۔۱۹۱۴ء میں جبکہ مولوی مبارک علی صاحب جیسے عالم فاضل بھی غیر م العین میں شامل ہو گئے۔آپ اس نازک ابتداء میں تحکم چٹان بن کر کھڑے رہے اور دوسرے احباب جماعت کی بھی خلافت سے وابستگی کا موجب بنے۔۱۹۲۸ء میں آپ نے اپنا مکان چھاؤنی میں تعمیر کرایا تو دو کمرے نماز با جماعت اور جمعہ کی نیست سے بنوائے۔ایک مردوں کے لئے اور ایک عورتوں کے لئے۔اس طرح آپ کا مکان مرکز کا کام دینے لگا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے مال میں اتنی برکت ڈالی کہ آپ نے اُنکیش مکانات اپنے ورثہ میں چھوڑے۔إنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔حضرت حافظ صاحب قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے۔ایک دفعہ کیسی بد زبان نے آپ کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں تحقیر آمیز الفاظ کہے تو آپکو اتنا صدمہ ہوا کہ بخا ر ہو گیا اور دو دن تک ماہی بے آب کی طرح تڑپتے رہے یہ حضرت مولوی عبد الاسد خان صاحب میرٹھی حضرت مولوی عبد الواحد معانی نمی بھٹی کا بیان نے آپ کی وفات پر سکوں یہ حافظ عبد العزیز صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ صحابہ میں سے تھے۔حافظ صاحب رضی اللہ عنہ اور خاکسار نے ایک ہی دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔مجھے جہاں تک یاد ہے غالباً نومبر دسمبر ۱۸۹۵ء کے ایام تھے حضرت حافظ صاحب رضی اللہ عنہ پہلے پر جماعت علی شاہ کے مرید تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت بھی زوروں پر تھی۔چھاؤنی سیالکوٹ صدر میں مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب احمدی تھے اور ایک اور دوست بھی مولوی صاحب نے ل الفضل در فتح ۱۳۳۰ش/ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۷ ء مث مضمون چوہدری شبیر احمد صاحب بی۔اسے کا