تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 353
جس پر حج فرم ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے یا نہ اس سال سید نا حضرت مصلح موعود نے بھی نائب مہدی کی حیثیت سے فریضہ حج کی بجا آوری کے لئے پر زور تحریک کی چنا نچہ خطبہ جمعہ یکم تبوک ۱۳۳۱ ہش کے دوران فرمایا :- یہ عید اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ کر ہمارے اندر بھی حج کرنے کا بعد یہ پیدا ہونا چاہیئے۔جہاں اپنے یعنی بھائیوں کو میچ نصیب ہونے کی خبر سن کر ہم خوش ہوتے ہیں وہاں ساتھ ہی ہمیں یہ خیال بھی کرنا چاہئیے کہ ہم کیوں مجھ نہ کریں ؟ ہمارے اندر یہ خواہش پیدا ہونی چاہیئے کہ خدا تعالیٰ ہمیں بھی حج کا موقعہ دے مگر افسوس کہ میچ کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی ہے بہت کم لوگ ہیں جو بج کے لئے بہاتے ہیں۔(۲) یہ عید اس لئے آتی ہے تا ہمارے دلوں کو بیدار کرے، اور ہمیں ہمارا فرض یاد دلائے عید ہمیں یہ بتانے آتی ہے کہ حج کی عبادت تم پر بھی فرض ہے جس طرح نماز ایک ضروری فریضہ ہے جس طرح زکوۃ ایک ضروری فریضہ ہے، جس طرح روزے ایک ضروری فریضہ ہیں اسی طرح کی بھی ایک ضروری فریضہ ہے لیکن افسوس کہ نہ غیر احمدیوں میں اس فریضہ کا صحیح احساس پایا جاتا ہے اور نہ احمدیوں کو اس کا پورا احساس ہے۔غیر احمدیوں میں تو یہ لطیفہ ہوتا ہے۔ان کے خطوط آتے ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے حج کیوں نہیں کیا ؟ پھر ان کے پہلے تعلیفہ نے بھی صبح نہیں کیا اور آپ نے بھی حج نہیں کیا حالانکہ حضرت خلیفہ اسے اول نے نہ صرف حج کیا تھا بلکہ دو سال کے قریب آپ مکہ مکرمہ میں رہے اور میں نے بھی حج کیا ہے۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صحت اس قابل نہیں تھی کہ آپ سفر کرتے اور پھر آپ کے لئے رستہ میں امن بھی نہیں تھا۔اس لئے آپ نے حج نہیں کیا لیکن آپ کی طرف سے ہم نے مجھے بدل کر وا دیا تھا۔" (۳)" اب اس عید سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے دلوں میں حج کی عظمت پیدا کر و اور زیادہ سے زیادہ مچھ کے لئے جاؤ تا کہ حج کی غرض پوری ہو اور حج سے جو خدا تعالیٰ کا منشاء ہے وہ پورا ہو اور پھر جو لوگ حج کے لئیے جائیں ان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس بات پر غور کریں کہ آج با وجود اتنی تعداد میں ہونے کے مسلمان آزاد کیوں نہیں ؟ مسلمانی منظم کیوں نہیں ؟ وہ له کشتی نوح من (طبع اقول )