تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 338
مراد وه مسیح ناصری نہیں ہے جس کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے یا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رافِعُكَ إِلى وَمُطَهَرُكَ مِنَ الذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُ وا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ بلكہ جیسا کہ شیخ نے خود یوحنا کو ایلیا کا نام دیا ہے اسی طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ اس امت میں سے عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں ایک ایسا شخص کھڑا ہو گا جو اسلام کی طرف سے عیسائیت کے ساتھ علمی و روحانی جنگ لڑے گا نہ یہ کہ شیخ کی روح اس میں حلول کی جائے گی۔ایک بات ہماری طرف یہ بھی منسوب کی گئی ہے کہ ہم ہندوستان کو فتح کر کے ساری دنیا کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔یہ اتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ مجھے تعجب ہے کہ ایک تعلیمیافتہ آدمی کو ہماری طرف یہ بات منسوب کرنے کی جرات کیسے ہوئی ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ہاں یہ پیش گوئیاں موجود ہیں کہ ہم پھر قادیان میں اکٹھے ہوں گے لیکن یہ بات تبلیغ سے بھی ہو سکتی ہے اور یہ بات پاکستان اور ہندوستان کے باہمی سمجھوتہ سے بھی ہو سکتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ لم یہ مفتر تین کہتے ہیں کہ یہ آخری زمانہ کے متعلق ہے کیونکہ جمیع ادیان پر غلبہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوا تو کیا ان آیات کے یہ معنی کئے بجائیں کہ مصر، شام یا سعودی عرب یا پاکستان یا کوئی اور اسلامی مملکت یہ ارادہ کر رہی ہے کہ باری باری چین، جاپان، روس اور جو منی پر حملہ کر کے انہیں فتح کریں گے اور ساری دنیا میں اسلام کو غالب کر دیں گے بند اتعالیٰ نے اسلام کے متعلق ایک خبر دی ہے اور مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں مگر ان میں سے کوئی دوسری اقوام پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں کرتا۔وہ اس خبر کے پورا ہونے کی تفصیلات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہے اسی طرح قادیان میں احمدیوں کے لئے آزادی حاصل ہونے کی پیش گوئی موجود ہے لیکن وہ ہو گی انہی ذرائع سے جو قرآن مجید کے نز دیک جائز ذرائع ہیں۔اور قرآن کریم کسی ایسی قوم کو دوسرے ملک، سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتا جس کے پاس حکومت نہیں۔وہ اسے فساد قرار دیتا ہے۔پس ہمارا کوئی له آل عمران : ۵۶ ) له سورة التوبه : ۳۳، الفتح : ۲۹ ، الصف : ١٠ ه تفسیر ابن جریر طبوعه مصر زیر آیت سورة صفت تغییر سینی مترجم فارسی که زیر سوره صف مطلع کریمی بمبئی تیر غرائب القرآن بر حاشیہ ابن جریر- بحار الانوار جلد ۱۳ صدا رغاية المقصود جلد ۲ ص ۱۳۳