تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 337 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 337

مجھے اپنے پیشوا کے ساتھ ہی اٹھایا جائے گا۔إنا نطيم محمد ا خير الورى ، نور المهيمن دافع الظلماء له ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تمام جہان سے بہتر ہیں فرمانبرداری کرتے ہیں۔آپ دنیا کی حفاظت کرنے والے خدا کے نور ہیں اور تمام اندھیرے آپ کی بدولت دور ہوتے ہیں۔اور جو کوئی اس کے خلاف ہمارے متعلق کہتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر رحم کرنے اور خدا تعالیٰ اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کی قبیح عادت سے بچائے۔ہمارے متعلق یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہم جہاد کے منکر ہیں۔یہ درست نہیں۔جہاد کا حکم قرآن کریم میں ہے اور قرآن کریم ہمارے نزدیک غیر منسوخ ہے پھر ہم جہاد کو کس طرح منسوخ کر سکتے ہیں ؟ جہاد کے متعلق ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ بعض ہندوستانی ملاؤں کے عقیدہ کے مخلان لکھا ہئے جن کے نزدیک اتحاد کا غیر مسلم مل جائے تو اسے قتل کر دینا یا جبراً کسی سے کلمہ پڑھوا لینا یا اپنی ہمسایہ قوموں سے بلا کسی ظہور فساد کے لڑ پڑنا جہاد کہلاتا ہے۔اس عقیدہ سے اسلام دنیا میں بدنام ہو رہا ہے اور بدنام ہو چکا ہے۔مصر کے تمام بڑے صنعت جہاد کی اس تشریح میں ہم سے متفق مصنف ہیں۔ہمارے نزدیک جو جہاد قرآن کریم میں پیش کیا گیا ہے اس کے بغیر کوئی آزاد قوم دنیا میں محفوظ نہیں رہ سکتی۔مذہبی اور سیاسی طور پر ان شرائط کے ساتھ ظالم سے لڑنا جو قرآن مجید نے بیان کئے ہیں ایک ایسا ضروری امر ہے کہ جس کے بغیر حریت ضمیر اور حریت بلا و قائم ہی نہیں رہ سکتی ہم اس جہاد کے صرف قائل ہی نہیں بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں ہم تو بربریت اور فونونیت کے مخالف ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے الْإِمَامُ جُنَّةَ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الله ہماری طرف یہ بھی منسوب کیا گیا ہے کہ ہم تناسخ کو مانتے ہیں اور شاید یہ عقیدہ اس امر سے مستلبط کیا گیا ہے کہ ہم پانی مسلسلہ کو مسیح کہتے ہیں۔یہ الزام بھی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ہم تناصح کے منکر ہیں اور خود بانی سلسلہ نے تناسخ کے عقیدہ کا اپنی کتابوں میں رد کیا ہے ہمارا عقیدہ مردن یہ ہے کہ مسیح موعود جس کی آمد کی خبر انجیلوں میں دی گئی ہے یا حدیثوں میں ہے اس سے له انجام آعظم مثل ۲۷ (مطبوعہ جنوری ۶۱۸۹۷) ۸۲ فوضويت ، شورش اور نراج کو کہتے ہیں کے بخاری کتاب الجہاد مسلم کتاب الامارة - الجداو و كتاب الجبار - نسائي باب البيعة *