تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 332
انجام پر نظر رکھ یکیں دیکھتا ہوں کہ تو مٹک کرنا ز سے چلتا ہے کیا تو نے کوچ کے دن اور شام کو روانگی کو بھلا رکھا ہے ؟ اسے حد سے گزرنے والے تو یہ کیا وہ گھڑی آنے والی ہے کہ تو اپنے شل ہاتھ کو دانتوں سے کاٹے گا۔مصریوں کا رو عمل اور تاثرات شاہ فاروق کی دستبرداری کی خبر ریڈ یو نے نشر کی تو ملک بھر میں بہجت و شادمانی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی کہ برطانیہ میں رہنے والے اکثر مصری باشندوں نے بھی شاہ کا تختہ الٹنے پر اظہار مسرت کیا نیز یہ رائے دی کہ شاہ کے خود غرض اور مطلب پرست حواری ہی شاہ سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر غیر ممالک میں مصر کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کا موجب بنتے ہیں کیے سابق وزیر اعظم حسین سری پاشا کے داماد ڈاکٹرمحمدہاشم پاشاہ نے شاہ فاروق کی پرائیویٹ زندگی کی تفاصیل بے نتخاب کیں جن میں ان کی عیش پرستی، رات کی زندگی، سرکاری کام میں مداخلت اور بددیانت افسروں سے میل ملاپ پر روشنی ڈالی ہے رائل آٹو بائل کلب کے صدر شہزادہ عباس حلم (شاہ کے بھتیجے ) کے حکم سے کلب کے اُن کمروں کو بند کر دیا گیا جن میں شاہ مصریوں کے ساتھ ایک رات میں لاکھوں پاؤنڈ کا جوا کھیلتے تھے کیتے وفد پارٹی کے لیڈر مصطفے نحاس پاشا اور سیکرٹری جنرل فواد سراج الدین پاشا نے انکشان کیا کہ شاہ فاروقی وفد پارٹی کو ختم کرنے کے لئے برطانوی استعمار پسندوں کے اشارات پر اخبارات کو مالی امداد دیتے رہے۔شہ اخبار المصری نے لکھا کہ شاہ فاروق کی بے پروائی اور اُن کا تشدد اُن کے اِس حسرت ناک انجام کا باعث بنے ہیں اور ہمارے سینوں سے ایک بھاری بوجھ اُتر گیا ہے۔الاخبار نے لکھا آج تاریخ کے ظالم اور جابز بادشاہوں کی فہرست میں شاہ فاروق جیسے ظالم اور تنگ دل بادشاہ کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔فاروق ایک ایسا بادشاہ تھا جس نے اپنے لے نوائے وقت (لاہور) ہر چولائی ۱۹۵۷ء ص کالم ، ایک زمیندار دنا موی سر است ۱۹۵۲ م کالم على سے نوائے وقت دلاہور) اور جولائی ۱۹۸۲ وقت سے زمیندار (لاہور) ۲ اگست ۶۱۹۵۲ ص ش زمیندار (لاہور) ۲۶ اگست ۱۹۵۷ء ص :