تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 331
۳۲۷ (ترجمہ) شاہی فرمان نمبرہ ۶ مہ ہم ہیں فاروق الاول شاہ مصر و سوڈان چونکہ ہم ہمیشہ اپنی رعایا کی بہبود ، خوشحالی اور ترقی کے خواہشمند رہے ہیں اور ہماری یہ انتہائی خواہش رہی ہے کہ ملک کو مشکلات سے ان نازک حالات میں محفوظ رکھا جائے جن سے آجکل وہ دو چار ہے۔لہذا عوامی خواہش کے مطابق ہم نے تخت شاہی چھوڑنے اور ولی عہد احمد فواد کے حق میں دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم علی ماہر پاشا اس سلسلہ میں کارروائی کریں۔فاروق راس التین کے محل سے پروانہ معزولی ۲۶۔جولائی ۱۹۵۲ء کو بھاری کیا گیا شاہ فاروق اپنی معزولی پر دستخط کرنے کے بعد بیوقت شام سکتا ہے برس جلا پلینی کا دردناک منظر سے اپنے بھی جانیں بیٹھ کر اٹلی روانہ ہوگئے جہاں ماہرین تک گنام زندگی بسر کرنے کے بعد مارمارچ ۱۹۶۵ء کو اگلے جہان سدھار گئے۔مصر سے اُن کی روانگی کا نظام نهایت درد انگیز اور عبرتناک تھا۔ملک کو الوداع کہتے وقت شاہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور انہوں نے اپنا چہرہ شرم کے مارے ڈھانپ لیا ،شاہ اس وقت حسرت و یاس اور بایوسی کی تصویر بنے ہوئے تھے اور زبان حال سے حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل حقیقت افروز عربی اشعار کی عملی تصدیق کر رہے تھے کہ۔يا مكفرى إِنَّ الْحَوَاقِبَ لِلتَّقى فانْظُرُ مَالَ الْأَمْرِ كَالعُقَلَاء الي اراك تميس بالخيلاء اَنْسَيْتَ يَوْمَ الظَّيْنِ وَالْإِسْرَاءِ تب أيُّهَا الْغَالَى وَتَاتِي سَاعَةً تُمسى تعض يمينك الشلاء له (ترجمہ) اسے میری تکفیر کرنے والے ! عاقبت تو شقی کی ہے پس و انشمندوں کی طرح آخری " من الرحمن تصنيف ۱۸۹۵ ۶ :