تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 330 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 330

۳۲۶ رسوا کن واقعات عدالتوں کے فیصلے جن میں آپ کی شرمناک، در اخلت سے حقائق پر پردہ پڑتا رہا اعتماد اور انصاف کی بے حرمتی ہوئی جرموں کو جرائم کے ارتکاب کے لئے حوصلہ افزائی ہوئی ، کئی لوگ بے تحاشا دولتمند ہو گئے اور بدکرداری میں حمد کر دی۔اور ایسے حالات کیوں نہ رونما ہوتے جبکہ عوام اپنے بادشاہوں کی عادات و خصائل کو ہی اختیار کرتے ہیں۔ان حالات کی وجہ سے فوج نے جو در اصل عوام کے اقتدار کی نمائندہ ہے مجھے اختیار دیا ہے که یکی حلالہ الملک سے مطالبہ کروں کہ آپ ہفتہ کے دن ۲۶ جولائی ۱۹۵۲ء کو بارہ بجے دو پر و سعید شہزادہ احمد فواد کے حق میں دستبردار ہو جائیں اور اسی روز چھ بجے شام سے پہلے اِس ملک کو چھوڑ دیں ورنہ فوج عوام کی خواہش سے انکار کے جملہ نتائج کی ذمہ دار آپ کو قرار دے گی۔محمد نجیب کمانڈر انچیف مسلح افواج (اسکندریہ ۲۶ جولائی ۶۱۹۵۲ ) مصری حکومت نے مطابق شاہ کی تمام جاندا دو املاک پر قبضہ کر لیا اور فاروق کو نوٹس دے دیا گیا کہ وہ اپنی جائداد میں کسی قسم کا تصرف نہیں کر سکتے۔اور ان کی تمام خواہشات کو رد کر دیا گیا۔شاہ کی ذاتی ملکیت مصر میں دو لاکھ ایکڑ سے زیادہ تھی اور اس کے علاوہ وہ دو کروڑ پونڈ کی دولت کے مالک تھے جو امریکہ اور سوٹزرلینڈ کے بنکوں میں جمع تھی۔شاہی محل میں ایک کمرہ جو قیمتی جواہرات سے لبالب تھا، کئی محلات قسم قسم کے پھلوں کے باغات، یہ سب کچھ بحق سرکار ضبط کرلئے گئے اور شاہ فاروق نے اپنے ہاتھ سے پروانہ معزولی یوں تحریر کیا :- " أمر ملكي رقم ۶۵ لسنة ۱۹۵۲ نحن فاروق الأول ملك المصور السودان لما كنا نتطلب الخير دائمًا لأمتنا، ونبتغى سعادتها ورقيها وكنا نرغب رغبة اكيدة في تجنيب البلاد المصاعب التي تواجهها في هذه الظروف الدقيقة ونزولا على ارادة الشعب۔قررنا النزول عن العرش لولى عهدنا الامير احمد فواد واصدرنا امرنا بهذا الى حضرة صاحب المقام الرفيع على ماهر باشا رئيس مجلس الوزراء للعمل بمقتضاه۔فاروق صدر بقصر رأس التين في ٤ من ذى القعدة سنة ۱۳۷۱ - ۲۶ نوليو سنة ۲۱۹۵۲ المصور ( اکتوبر ۹۵۲(۶) بحواله البشری (جیها) شمارہ نومبر ۱۹۵۲ء طـ 195۔140۔مام