تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 325
اس ہمسایہ مملکت کو جو ایشیامیں تعمیر وترقی کا علم بلند کر رہی ہے اور جو عربوں کے تمام مسائل میں خلوص نیت اور صدق دلی سے ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔عرب دنیا کے ایک وسیلے حصہ کی طرف ایک طعنہ دیا گیا ہے۔ہماری مراد اس سے صر ہے۔ہاں مفتی صاحب نے جہالت کا ثبوت دیا ہے۔اس کا منصب صرف دیتی ہے۔اس کا کام لوگوں کو کا فر قرار دینا نہیں ہے جس نے مومن کو کافر کہا وہ خود کا فر ہوا۔آہ! اس نے یہ فتوی دے گڑ کہ پاکستان کا وزیر خارجہ کا فر ہے اور یہ کہ پاکستانی حکومت پر واجب ہے کہ وہ ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ کر دے انتہائی غفلت کا ثبوت دیا ہے۔مذہبی لوگ خدمت دین کے لئے پیدا کئے گئے ہیں سیاسی امور میں دخل دینا ان کا کام نہیں۔اگر ظفر اللہ خان مختلف اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقے دیعنی جماعت احمدیہ ) کی طرف منسوب ہوتے ہیں تو یہ امران کو کافر نہیں بناتا۔وہ ایمان بالله وملئكته وكتبه ورسلہ کے قائل ہیں۔وہ اسلامی ارکان پر پوری طرح عامل ہیں۔کیا مفتی کے لئے جائز ہے کہ وہ ان مسلمانوں پر بھی کفر کا فتوی لگائے جو دین اسلام پر عمل پیرا ہوں ؟ شیخ مخلوف مسلمانوں کی صفوں میں انتشار برپا کر رہا ہے اور ایسے وقت میں تفرقہ کی اشاعت کر رہا ہے جبکہ انہیں اتحاد کی بے حد ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کافروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے لکم دینکم ولی دین مفتی مصر کو کیا ہو گیا کہ وہ احمدی مسلمانوں کو مخاطب کر رہا ہے اور ان پر کفر کا انتہام لگا رہا ہے جس نے مومن کو کافر کہا وہ خود کا فر ہوا۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ اہل مصر بالخصوص اور دیگر مسلمان بالعموم قرون وسطی کی جمہور انگیز اور غیر ترقی پذیر روش سے خلاصی حاصل کریں۔شیخ مخلوف اور ظفر اللہ خاں کے درمیان نمایاں فرق ہے۔اول الذکر مسلم غیر عامل ہے۔اور اگر شیخ مذکور عمل کرتا بھی ہے تو تفرقہ انگیزی کے لئے بر خلاف اس کے ظفر اللہ خان مسلم عامل النخیر ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیات میں ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کا اکٹھا ذکر کیا ہے۔آہ ! ایمان اور عمل صالح کے باوجود مسلمانوں کو کافر قرار دینا کتنا ہی دور از عقل ہے۔لے ه (ترجمہ) بیروت المساء بحوالہ روزنامه افضل لاہور مدینہ - ارونا ۳۳۱ پیش مطابق - ارجولائی ۶۹۵۲ مد