تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 324 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 324

۳۲۰ وہ اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ آپ مشرقی محاسن کے آئینہ دار ہیں اور سلامتی کی دعویدار نئی دنیا میں آپ دو متقابل و متحارب بلاکوں میں تیسرے گروپ کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہ ہیں وہ ظفراللہ خان کو تکفیر کا نشانہ بنایا گیا ہے حالانکہ تنہا آپ ہی ہیں جو اقوام متحدہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کہ فریفی نماز اس کے وقت میں ادا کرتے ہیں اور اس غرض کے لئے اقوام متحدہ کے ہال میں کوئی علیحدہ جگہ تلاش کرتے ہیں تاکہ امت اسلامیہ کی نصرت طلب کرنے کے لئے خدا کی جناب ہیں سجدہ ریز ہو سکیں۔مصر کے علاوہ بیروت کے پر لیس نے بھی فتوی پر تنقید کی چنانچہ برونی کیر الاشات بیروت پرلیس روزنامہ بیروت المساء نے لکھا۔" :- ہم وزیر خارجہ پاکستان السید محمد ظفر اللہ میاں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔بیروت میں ان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ہم نے اُن کا فصاحت و طاعت سے پریکچر بھی شنا۔آپ کا لیکچر سن کر ہمارا متاثر ہونا لازمی تھا جبکہ اقوام متحدہ کی مجالس آپ کی زور دار تقاریرین کو ورطہ حیرت میں پڑچکی تھیں۔ہم نے آپ کو قرآن مجید کے علوم بیان کرتے ہوئے سنا جس میں آپ نے شاعر کا یہ قول بھی بیان فرمایا وكل العلم في القرآن لكن : تقاصر عنه افهام الرجال تمام علوم قرآن مجید میں موجود ہیں لیکن عام لوگوں کے فہم انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں پھر ہم نے آپ کو پالم منیش ، ہوٹل میں نماز تہجد پڑھتے اور عبادت کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے آپ کے پیچھے نماز میں آپ کے ساتھی بھی تھے۔پھر ہم نے دیکھا کہ آپ اسلامی حکومتوں کے وزراء اعظم کی ایک کا نفرنس منعقد کرنے میں کوشاں ہیں۔پھر آپ نے مصر کی امداد اور تائید و حمایت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔اسی طرح مسئلہ تونس کے متعلق اسلامی مفادات کے تحفظ میں آپ جس طرح سینہ سپر ہوئے وہ بھی ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔یقینا الظفر اللہ خان ایک مفکر دماغ کے حامل ہیں اور آپ ترقی پذیر پاکستانی مملکت کے لئے سان ناطق کا درجہ رکھتے ہیں۔اس مملکت کے لئے جس کی مسلم آبادی آٹھ کر وڑ نفوس سے بھی متجاوز ہے۔جس نے قرآن کریم کو اپنا دستور بنایا ہوا ہے اور جہاں عربی زبان کو ممتاز درجہ پر شمار کیا جاتا ہے۔