تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 320
مسلمان اس واقعہ سے ناواقف نہیں ہیں جو آنحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا جبکہ کیسی نے ایک آدمی کو جنگ میں قتل کر دیا حالانکہ وہ شہادتین کا اقرار کر چکا تھا کیونکہ قاتل کو یقین تھا کہ اس شخص نے قتل کے ڈر سے کلمہ شہادت پڑھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس کے اس فعل پر مات کی اور اس کے مزار کو قبول نہ کیا اور آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کے دل کو پھاڑ کر دیکھا تھا ؟ لے اختبار البوم (۲۹ جولائی ۱۹۵۲ء) نے خبار الیوم کے نام نگار و یتیم کراچی کابیان نامدار موتی لکھنا - اپنے نامہ نگار خصوصی تقسیم کراچی کے حوالہ سے اصبح الابرار کا فرین (نیک لوگ کافر ہو گئے ) شیخ مخلوف نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اب اس پر پردہ ڈالنے کی کوشیش عبث اور بے معنی ہے۔اس غلطی کا نام وہ فتوی رکھیں یا بیان نام دیں دونوں برابر ہیں۔بہر کیف وہ خود ہی اس کا شکا ر ہو گئے ہیں۔حکومت کے لئے اگر اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے تو اب مفتی صاحب کو ان کے اس منصب سے علیحدہ کرنا ضروری ہو گیا ہے میفتی صاحب کے فتویٰ کے جاری ہونے کے وقت ہی سے ہم نہ صرف اس کو نا قابل التفات سمجھ رہے تھے بلکہ لوگوں کے اسے طاق نسیان پر رکھ دینے ہیں بھی انکے محمد تھے مگر اس کے باوجود مفتی صاحب اپنی اسی غلطی کا دفاع کر رہے ہیں اور ایک غلطی کو محو کرنے کے دار میں دوسری کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ایک گمراہی کے عوض دوسری میں اپنے کو ملوث کر رہے ہیں۔"+ مفتی صاحب اس بات کو جانتے ہیں کہ قادیانی جماعت میں اعتدال پسند اور صاحب و قار لوگ بھی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ خفر اللہ خان بھی ان ہی میں سے ایک ہوں۔معنی صاحب یہ سب کچھ بھی جانتے ہیں جبہ یا کہ الاخبار کو انہوں نے بیان بھی دیا ہے اور جو جمعرات کو شائع بھی ہو چکا ہے ان کا فرض تھا کہ کسی کو خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرنے اور اس کے دین سے نکالنے سے پیشتر وہ فقہ اسلامی کے عام اور معمولی قوانین ہی ملاحظہ فرما لیتے جو انہیں اس معاملہ پر تحمل اور بردباری سے غور کرنے کی طرف توجہ دلا رہے تھے اور جلد بازی سے کام نہ لیتے۔له البلاغ ۲۶ جون ۲۱۹۵۲