تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 317
تکلیف دی جس نے عرب حکومتوں کے دفاع میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جس کی وجہ سے اس تابخر اور مثالی شخصیت کی تائید اور دوستی کو مفقود کر دیا گیا ہے حالانکہ آج کے عالمی سیاسی تنازعہ اور خطرناک ناری بحران میں عرب حکومتیں ظفر اللہ خان کی شجاعت، بلاغت اور آپ کے دفاع کی بہت ضرورت محسوس کرتی ہیں۔قادیانی فرقہ کے متعلق یکی انتہائی باریک بینی پر مبنی اپنی معلومات بیان کرتا ہوں اور پڑھنے والے پر اس کا فیصلہ چھوڑتا ہوں کہیں ہرگزہ اس امر کا دعوی نہیں کرتا کہ میں نے قادیانیت کا کما حقہ مطالعہ کیا ہے۔میرا ان سے مسلسل تعلق رہا ہے بلکہ اس جماعت سے مجھے واسطہ بھی پڑا ہے۔قادیانی مذہب سے میرا تعلق پہلی مرتبہ میرے قیام لندن کے دوران ہوا جن دنوں میں وہاں تعلیم حاصل کرتا تھا۔میرا پہلا تاثر یہ ہے کہ یہ دو قسموں میں منقسم ہے۔جماعت کا ایک گروہ تو اس رائے کا حامل ہے کہ اس کا امام (احمد) القادیانی اسلامی مصلح سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔وہ مصلحین جن کو خدا تعالیٰ وقتا فوقتا دین کی تجدید کے لئے مبعوث کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اپنے امام کی عزت میں غلو کرتا ہے اور وہ اس کو نبی یقین کرتا ہے۔لندن کے محملہ پلٹنی میں اس گروہ کی مسجد بھی ہے۔ران ایام میں اس فرقہ کے خلاف یکس نے سخت ناقدانہ حملہ کیا چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ امام مسجد کو میرے ہاں بھیجے اور وہ میرے ساتھ تبادلہ خیالات کرے، یاتو وہ مجھے خاموش کرا دے اور یا یکن اس کو خاموش کر دوں۔چنانچہ دوم نیز مصری کلب لندن میں ہم مناظرہ کے لئے اکٹھے ہوئے بحث کا دائرہ ان کے زعیم (احمد) القادیانی کی نبوت کا تھا۔میں نے امام صاحب کی تو بقیہ کو اس طرف پھیرا کہ یہ مسئلہ قرآن کے صریح خلاف ہے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبین۔یہ دلیل رسول اکرم کے بعد ہر شخص کے لئے اس رستہ کو ختم کر دیتی ہے کہ وہ اپنے کو ہی کہے۔لیکن اب تک اس امام کے جواب کو یاد کرتا ہوں کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح ہی محمد کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ ان کی کتاب قرآن کریم ہے اور اس کے سوا اور کوئی ان کی کتاب نہیں ہے۔اس سے وہ عقیدہ اور شریعت حاصل کرتے ہیں۔لیکن امام نے جیسا کہ مجھے یاد ہے قادیانی کی نبوت کے عقیدہ پر اصرار کیا اور جیب یکی نے اسکے سامنے قرآنی آیت کو پیش کیا تو اس نے تاویل کرنی شروع کر دی اور صراحتنا کہا کہ یہ ان کے لئے