تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 316
۳۱۲ مسائل میں متفقہ موقف کو دیکھتے ہوئے اس نتیجہ کے اخذ کرنے - پر مجبور ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن جو سر ظفر اللہ خاں کے سامنے اپنے نظریات کو عالمی مجالس میں بذریعہ ودلائل و براہین ثابت کرنے سے عاجز آگئے ہیں اور جنہوں نے قاہرہ (۲۶ جنوری ۶۱۹۵۲ ) کو بروز سیاہ ہفتہ آگ کے شعلہ میں تبدیل کر دیا۔ایسے ہی اشخاص نے مفتی مصر کو استعمال کیا ہے اور مفتی کو اس امر کا احساس ہی نہیں ہے میفتی کو افتراق کے لئے دو بڑی اسلامی حکومتوں کے درمیان آلہ کار بنایا گیا ہے اس کے سوا کچھ مقصد نہیں تھا۔وسيعلم الذين ظلموا اتى منقلب ينقلبون اخبار الجمهور المصری (۲۱ جولائی ۱۹۵۲ء) نے اخبار الجمہور صحری کا بیان ایک شدہ میں لکھا۔اور میری ہم اس امر کی وضاحت کرتا پسند کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹراحت شلبی پر وفیسر خواد الاول یونیورسٹی کی رائے کی تائید کرتے ہیں کہ مفتی مصر کا فتوی برطانیہ کی چھال ہے اور ان برطانوی اخبارات کی سازش ہے جو عربی زبان میں مصر سے شائع ہوتے ہیں۔عوام کے تصور سے ہی مسئلہ کہیں گرا ہے۔دھوکہ کی بنیاد۔یہ واضح حقیقت ہے کہ ظفر اللہ خان نے جو تمام دنیا کے مسلمانوں کے معاملات میں دفاع کیا ہے اس نے انگریزوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اور اس کی ویرانہ آواز نے انگریزوں کو پریشان کر دیا ہے اور ان کو اس امر کا خون ہے کہ پاکستان مضبوط ہاتھ ہو جائے گا جو ہر جگہ مسلمانوں کے معاملات میں ان کو سہارا دے گا۔۔۔ظفر اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہرگز اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا چاہے عرب لیگ اس کو تسلیم کرے۔اس وجہ سے انگریزوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ کے خلاف سازش کی تاکہ وہ مصر اور مشرق کو اِس پاکستانی بڑے لیڈر کی تائید سے محروم کر دے۔الدكتور ابراهيم اللبان يك پرنسپل کلیه و ار العلوم الدكتور اللبان بك كا بيان المصريہ نے النحلة القاديانية وما اعرف عنها ر فرقہ قادیانی کے متعلق میری معلومات کے زیر عنوان لکھا:۔ت مجھہ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ عرب حکومتوں نے ظفر الله عالی وزیر خارجہ پاکستان جیسی شخصیت کو