تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 315 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 315

Yll آپ نے مصر کو بے حد تقویت پہنچائی خشابہ پاشا نے اپنے بیان کے آخر میں فرمایا۔یکی اس عظیم شخصیت کا بے حد ممنون احسان ہوں کیونکہ اس نے میرے ملک کی بے حد خدمت سر انجام دی ہے اور مجھے انتہائی افسوس ہے کہ ایسا فتوی دیا بھی گیا ہے تو ایسی نمایاں اور بند ہمتی کے خلاف ہے أخبار النداء (یکم جولائی ۱۹۵۳ء) نے لکھا :۔(ترجمہ) ر اخبار النداء کا بیان نمائندہ النداء و معلوم ہوا ہے گریختی کی شخصیت بالکل حمل بحث نہیں تھی بلکہ ارباب حل و عقد نے مفتی کے منصب کے دائرہ عمل پر غور کیا ہے۔اور یہ معاملہ مفتی کے منصب کے محدود کرنے پرش عملی ہے کہ اس کو کس حد تک اجتہاد کرنا چاہیئے۔ہاں سرکاری حدود میں اس کو اجازت نہیں ہے۔چونکہ مطالبات دارالافتاء میں آتے ہیں۔اس لئے کوئی فتوی اس وقت تک صادر نہ کیا جائے جیتک اس کو مجلس افتاء کے سامنے پیش نہ کیا جائے جونا ہی اولیہ کے آئمہ پر مشتمل ہو۔مولانا محمد شریف صاحب مدیر البشری نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ :۔بعد انداں ہم دریافت کرتے ہیں: کیا حضرت مفتی ارمصر کئی سالوں سے نہیں جانتے کہ سر ظفر اللہ خان احمدیت کے ستاروں میں سے ایک ستارہ ہے؟ وہ کونسی وجہ ہے جس کی وجہ سے مفتی اس فتوی کے جاری کرنے پر مجبور کیا گیا۔جیسا کہ کہاگیا ہے کہ غلطی ہے یا اس کا بیان ہے جیسا کہ فاضل مفتی نے خود بیان دیا ہے موجودہ نازک حالات میں جن میں سے عالم اسلامی گزر رہا ہے مسئلہ کشمیر مسئلہ حیدر آباد، ملک فارس کے پٹرول کا مسئلہ مسئلہ ٹیونس، ہر سویز کا مسئلہ مسئلہ سوڈان فلسطین کے پناہ گزینوں کا مسئلہ، اسلامی ممالک کی حفاظت کا مسئلہ ، جو آنے والی جنگ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ہے جس کے لئے جنگجو اقوام مسلح اور تیار ہو رہی ہیں۔اس کے علاوہ اور کئی مشکل وسائل ہیں جو ان ایام میں سلمانوں کو دور میں ہیں۔کیا یہ سائل مسلمانوں کے اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں یا مسلمانوں کے افتراق کے فتاوی یا اس قسم کی شخصی آراء کی اشاعت کا تقاضا کرتے ہیں۔ہم ان مشکلات کے پیش نظر اور مشرق میں سب سے بڑی اسلامی حکومت مصر اور دنیا میں سب سے بڑی اسلامی حکومت پاکستان کے اتحاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اُن کے اسلامی اور عالمی له بحواله البشرى حيفا فلسطين المجلد ۱۲۳۱۸ A