تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 313 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 313

٣٠٩ سے لبریز ہو گئے۔آپ ان قابل ترین قائدین سے میں نہیں عوامی اور بھی مسائل کو خوش اسلوبی سے مجھے کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔لے مصر کی حکمران وفد پارٹی کے مشہور اخبار المصری نے ۲۶ جون و در اخبار المصری کا بیان کے پرچہ ہمیں ایک زوردار مقالہ افتاحی سیر و ظلم کیا جس میں کھا۔اے کا فر خدا تیرے نام کی عزت بلیت کرے ہماری مسلمان مملکت پاکستان نے "شاہ سوڈان کی حیثیت سے شاہ فاروق کے نئے خطاب کو تسلیم کیا۔پاکستان نے یہ لقب برطانوی تاج کے تحت دولت مشترکہ کا رکن ہونے کے باوجود تسلیم کیا۔شاہ فاروق کو سوڈان کا بادشاہ تسلیم کرنا ایک جرأت مندانہ اقدام تھا اور اس کے لئے ہم چوہدری حمد ظفر اللہ خان کی مساعی جمیلہ کے متون احسان ہیں۔یہ ہم پر ایک نئی کرم فرمائی تھی۔یہ ہماری دلجوئی اور ہمارے ساتھ ہمدردی کا ایک نیا اظہار تھا ہمیں احسان مندی کے بعد بات کے ساتھ اس کا اعتراف کرنا چاہیئے تھا۔بالکل خلاف توقع اور اچانک ہمیں معلوم ہوا کہ مفتی مصر نے اسی ظفر اللہ خان کو ایک بے دین اور ایک غیر مقلد فرقہ کا رکن قرار دے دیا ہے۔ہمیں رحم آتا ہے کہ اس فتوئی کی موجودگی میں ہمارے سفیر مقیم کو اچھی عبدالوہاب عزام کی کیا حالت ہوگی جو اس ملک میں شاہ سوڈان کا نمائندہ ہے اور جس ملک نے برطانوی تاج سے وابستہ ہونے کے باوجود ہمارے بادشاہ کا نیا لقب تسلیم بھی کر لیا ہے۔ہاں ہاں ! اہمیں ترس آتا ہے اپنے وزیر خارجہ عبدالخالق حسونہ پاشا پر جیسے اپنے محمد ے کی وجہ سے ہمارے ملک اور ہمارے قومی مطالبات کے بارے میں پاکستان کے موقف کا بخوبی علم ہے اور جیسے اچھی طرح معلوم ہے کہ جہاں تک ہماری امنگوں اور ہمارے قومی مطالبات کا تعلق ہے ان کے بارے میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان کے کیا جذبات ہیں۔ہمیں ترس آتا ہے اپنے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد صلاح الدین پاشا پر بھی کہ جس نے چو ہدری محمد ظفراللہ خان کا اعتماد حاصل کیا اور اقوام متحدہ میں ان کی امداد و حمایت سے فائدہ اُٹھایا۔له البشری دسمبر ۱۹۵۳ء مجلد ۱۳ مدل ، ملا ہے