تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 310
۳۰۶ جس میں کہا کہ ظفراللہ خانی قادیانی ہے اور یہ لوگ کا فر ہیں شیخ مذکو رنے اسی پر ہیں نہ کی بلکہ اس نے اپنے مقصد کو چھپا نہ رہنے کی خاطر یہ بھی کہ دیا کہ حکومت پاکستان چونکہ اسلامی سلطنت ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ اس کا فروزیر کو اپنی وزارت خارجہ سے نکال دے کیونکہ اسلامی سلطنت میں کا فرو زیر کا باقی رہنا مناسب نہیں۔گویا اس طرح شیخ مخلوف نے چوہدری ظفر اللہ خاں کے اس قول کا جواب دیا کہ اسلامی سلطنت میں بد کار بادشاہ کی کوئی جگہ نہیں۔شیخ مخلوف (جنہیں آلہ کار بنایا گیا تھا) کے بیان پر مصر اور پاکستان کے اخبارات نے پر جوش جوابی حملہ کیا اور اس کی تغلیط کی۔ہلالی پاشا نے جو ان دنوں مصرکے وزیراعظم تھے قسم کھائی کہ شیخ مخلون کی اس حماقت اور رعونت کے باعث انہیں افتاء کے منصب سے معزول کر دوں گا لیکن انہیں بہت باد معلوم ہو گیا کہ (سابق) شاہ مصر تو شیخ مخلوف کے شہر کا بال تک بیکا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہی با یہ شیر بادشاہ کے لئے حسب منشاء فتوئی اور جواز پیدا کرتا رہتا ہے لیه الاستاذ احمد بہاؤ الدین نے شاید یہ بات ہفت روزہ’ الصیاد ۷ /اگست (۱۹۵۲ ء ) کی مندرجہ ذیل خبر سے اخذ کی ہے۔اشتهر عن الملك السابق فاروق انه كان يكره النصح والارشاد وخاصة في المسائل السياسية والدينية ويكره الذين يجراؤن على نصحه و ارشاده وحدث حسين مر السيد ظفر اللہ خان، وزیر خارجية الباكستان بمصر عائدا من هيئة الامم المتحدة ان استقبله الملك السابق ، فما كان من الوزير الباكستاني الذي يعتبر من كبار رجالات السياسة والاسلام الا ان وجه للملك بعض النصائح السياسية والدينية يغضب الفاروق واستدعى على اثر المقابلة شيوخ الازهر واجبرهم على اصدار فتوای ضد ظفر الله خان بانه ملحد و خارج على الدين، وصدرت الفتوى ونشرت في المرحت۔۔وقامت قيامة لباكستان، وقدم وزيرها في القاهرة احتجاجا رسميا إلى الحكومة المصرية التي كانت يرئسها احمد نجيب له کتاب فاروق ملكا مطبوع مصر ہے بحوالہ رسالہ البشری حیفا فلسطین) مجلد من بابت دسمبر ۶۹۵۷