تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 299
۲۹۵ دلیل نہیں دیتا۔مثال میں چونکہ دلیل دی گئی ہے۔اِس لئے یہاں بھیڑیے سے مراد وہ آدمی ہے جو بھیڑیے کے سے خصائل رکھتا ہو۔بہر حال بھیڑیے کو یہ لالچ پیدا ہوا کہ کسی نہ کسی طرح بکری کے بچہ کو کھالے بچنا نچہ وہ بکری کے بچہ کو دیکھ کر کہنے لگا تجھے شرم نہیں آتی کہ میرا پانی گدلا کر رہا ہے۔بکری کے بچہ نے کہا سر کاریہ کونسی بات ہے ،آپ نے سوچا نہیں کہ آپ اُوپر ہیں اور لیکن نیچے آپ کا پیا ہوا پانی میری طرف آرہا ہے نہ کہ میرا پیا ہوا پانی آپ کی طرف جا رہا ہے۔بھیڑ لیے نے آگے بڑھ کر بکری کے بچہ کو تھپڑ مارا اور اُسے مار دیا اور کہا نالائق آگے سے جواب دیتا ہے۔پس زیر دست کثرت پر گھمنڈ کرتا ہی ہے جیسے آجکل احراری اخبار آزاد، زمیندار اور آفاق کر رہے ہیں۔وہ کہیں گے اور ہم سنیں گے۔اور چونکہ ہم تھوڑے ہیں۔۔۔اس لئے ہم تھوڑے ہونے کی سر اٹھیگتیں گے یہانتک کہ ہمارہ سے خدا کی غیرت بھڑک اُٹھے اور وہ ہمیں اقلیت سے اکثریت میں تبدیل کر دے لیکن جب تک ہم تھوڑے ہیں تمہیں تھوڑے ہونے کی سزا بھگتنی پڑے گی ، ماریں کھانی پڑیں گی، گالیاں سنی پڑیں گی۔کئی احمدی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آخر ہم کب تک ان تکالیف کو برداشت کریں گے ؟ میں انہیں یہی کہتا ہوں تم تھوڑے ہو اور جب تک تم تھوڑے ہو تمہیں تھوڑا ہونے کی سرا ٹھگتنی پڑے گی۔خدا تعالی اگر تمہیں ڈکھوں میں میتلا نہ کرنا چاہتا تو وہ تمہیں اقلیت میں نہ رہنے دیتا۔لیکن جس طرح کثرت دماغ میں غرور پیدا کر کے عقل مار دیتی ہے اسی طرح عشق بھی ایک عاشق صادق کے اندر کبریائی پیدا کر دیتا ہے مگر عشق ہمیشہ کبریائی کے نشہ میں آکر مرتا ہے ماند تا نہیں۔چنانچہ دیکھ لو عاشقوں نے معشوقوں کے لئے اپنی جانیں دی ہیں اور کثرت والوں نے تھوڑی تعداد والوں کو غرور میں آکر مارا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر ہے جو بدل نہیں سکتی۔تم کوئی نئی جماعت نہیں جو اقلیت میں ہو۔کثرت والے کہتے ہیں ہم تمہیں اقلیت بنا دیں گے ہم کہتے ہیں بنانے کا کیا سوال ہے ہم تو پہلے ہی اقلیت میں ہیں کیونکہ ہم تھوڑے ہیں۔جس چیز کا ہمیں انکار ہے وہ یہ ہے کہ ہم وہ اقلیت نہیں جس کے معنے غیر مسلم کے ہیں۔کیا مسلمان ہندوستان میں اقلیت میں نہیں ہے ہندوستان میں ہندو زیادہ ہیں اور مسلمان کم ہیں۔پھر اگر پاکستان میں کوئی ناجائز سلوک اقلیت سے ہو سکتا ہے تو کیا وہی سلوک ہندوستان میں مسلمانوں سے بھی ہو سکتا ہے یا چین میں مسلمانوں سے ہو سکتا ہے۔اگر اقلیت پر سختی کرنا جائز ہے تو پھر وہی سلوک انگلستان میں بھی