تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 300 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 300

۲۹۶ مسلمانوں سے جائز ہے۔یہ کتنی بے حیائی ہے کہ ایک قوم متمدن ہونے کا دعوی بھی کرے اور پھر وہ یہ خیال کرے کہ اگر وہ اقلیت والوں سے اپنی کثرت کی وجہ سے کوئی برا سلوک کرتی ہے تو جائز ہے لیکن دوسری شریف حکومتوں سے جہاں وہ قوم خود اقلیت میں ہے یہ امید رکھے کہ وہ اس سے ایسا سلوک نہیں کرے گی کتنے تعجب کی بات ہے کہ اسلام جو سب سے زیادہ شرافت سکھاتا ہے اُس کی طرف منسوب ہونے والے آج غیر قوموں کی شرافت سے تو نا جائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ملک میں تھوڑے ہیں اس لئے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرو لیکن اپنے ملک میں تھوڑوں پرظلم کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑ سمجھ کر ان کو آزادی سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔کیا یہ شرافت ہے ؟ ہم اقلیت سے جو سلوک کرتے ہیں وہی سلوک اگر وہ ممالک ہم سے کریں جہاں ہم اقلیت میں ہیں تو ان کا یہ طریق جائز ہوگا لیکن ہم اسے جائز نہیں کہتے۔جو سلوک ہندوستان میں مسلمانوں سے ہو رہا ہے کوئی احمدی ہو یا غیر احمدی اسے برا مناتا ہے کیونکہ مسلمان بھی حکومت کے اعضاء ہیں اور حکومت میں سب کو برا بر ہونا چاہیے۔یہی سلوک پاکستان میں بھی ہونا چاہیئے۔جو شخص لا إله إلا الله محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کا قرآن کریم کے احکام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر ایمان ہے وہ مسلمان ہے اور پھر جتنا جتنا وہ احکام قرآن اور احکام رسول پر عملاً ایمان لاتا ہے اتنا اتنا وہ حقیقتا مسلمان ہے لیکن جب وہ منہ سے کہتا ہے کہ یکی مسلمان ہوں تو وہ ظاہر میں سو فیصدی مسلمان ہے کیونکہ وہ منہ سے کہتا ہے لیکن مسلمان ہوں اور نام کے لحاظ سے منہ سے کہنا کافی ہے اور عمل حقیقت کے لحاظ سے ضروری ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کوئی کیسا مسلمان ہے بندے کا کام نہیں۔میندے کا کام یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے تو وہ اسے مسلمان کہے۔اگر یکی کہتا ہوں یکن مسلمان ہوں تو اسے مجھے مسلمان ماننا پڑے گا۔اگر زید کہتا ہے لیکن مسلمان ہوں تو اُسے زید کو سلمان ماننا پڑے گا چاہے وہ شافعی ہو، حنفی ہو، مالکی ہو، مبلی ہو۔" تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ تم تھوڑے ہو اس لئے نہیں کہ تم مسلمان نہیں بلکہ اس لئے کہ احمدی کہلانے والے مسلمان غیر احمدی کہلانے والے مسلمانوں سے کم ہیں اور عربی زبان میں اسے اقلیت کہتے ہیں اقلیت کے یہ معنے نہیں کہ ہم مسلمان نہیں کیونکہ ہم منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور قیامت