تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 298 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 298

۲۹۴ پر لبعض ممالک میں بے شک سختیاں ہوتی ہیں مگر ایک حد تک لیکن دنیا چونکہ متمدن ہو چکی ہے اس لئے اب کوئی ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو کوئی ایسا قانون بنائے جو عقل کے خلاف ہو لیکن فرض کرو کہ اگر کوئی ایسی حکومت ہو جو عقل سے باہر جا کر ایسے قانون بنا سکتی ہو تو عاشق بھی عقل سے باہر جا کر اپنی جانوں کو شہادت کے لئے پیش کر سکتے ہیں اور یہ کوئی عجیب بات نہیں جس پر لوگوں کو حیرت ہو ہماری جماعت امن پسند جماعت ہے لیکن جن ملکوں میں احمدیوں کے لئے امن نہیں رہا وہاں ہم نے اپنے آپ کو کچا یا نہیں۔کابل میں دیکھ لو احمدی پتھر کھاتے گئے مگر مرتد نہیں ہوئے۔پس حکومت کی فرمانبرداری اور چیز ہے اور عقائد اور چیز ہیں۔متمدن دنیا افراد کے مذاہب میں دخل نہیں دیتی متمدن دنیا حریت ضمیر میں دخل نہیں دیتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ میں تھے جہاں تک آئین کا سوال تھا آپ مکہ کی حکومت کے قانون کے پابند تھے اور حکومت کی اطاعت کرے تھے لیکن آپ نے تبلیغ کو ترک نہیں کر دیا تھا۔سچ کو آپ نے ترک نہیں کر دیا تھا کسی کے کہنے پر آپ نے اپنا کام نہیں چھوڑ دیا تھا لیکن جہاں تک آئین اور قانون کا سوال تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کے قوانین کی پابندی کی۔اور جہاں تک عقائد کا سوال تھا آپ نے اپنے آپ کو ان پر مضبوطی سے قائم رکھا۔حضرت مسیح علیہ السلام پر بھی ہماری طرح متضا و سوالات کئے بجاتے تھے۔لوگ عوام الناس کے پاس جاتے تو کہتے یہ حکومت کے خوشامدی ہیں اور حکومت کے پاس بجاتے تو کہتے یہ باغی ہیں۔ہمارے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے۔مخالفوں کی کتب میں وہ مضامین بھی موجود ہیں جن میں لکھا گیا ہے کہ ہم حکومت کے خوشامدی ہیں اور حکومت کے نام ایسے محضر نا مے بھی موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ہم حکومت کے باغی ہیں۔ایک طرف باغی کنا اور دوسری طرف خوشامدی کہنا یہ دونوں اور چیزیں اکٹھی کیسے ہو سکتی ہیں ؟ لیکن لوگ اکثریت کے گھمنڈ میں سب کچھ کہ لیا کرتے ہیں۔وہ طاقت کے گھمنڈ میں یہ خیال نہیں رکھتے کہ پنچ کیا ہے ، لوگ اکثریت کے گھمنڈ میں بجائے دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کے یہ کہتے ہیں کہ تم نے ہماری بات نہ مانی تو ہم ڈنڈا ما رہیں گے مثل مشہور ہے کہ کوئی بھیڑیا ندی کے کنارے پانی پی رہا تھا۔ایک بکری کا بچہ آیا اور اُس نے بھی پانی پینا شروع کر دیا۔بکری کا بچہ دیکھ کر بھیڑیے کے منہ میں پانی بھر آیا اور اُس نے یہ چاہا کہ اسے کھالے۔انسانوں اور حیوانوں کے حالات ایک سے نہیں ہوتے انسان دلیل دیتا ہے لیکن ایک حیوان