تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 297
۲۹۳ وہاں یہ بھی ٹھیک ہے کہ دنیا میں ایسے سمت بھی ہو سکتے ہیں جو مذ ہب کے لئے جائز قربانیاں کرتے چلے جائیں اور ایمان پر قائم رہیں جس شخص کو ہم نے مانا ہے اس کا شعر ہے در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کیکه لاب تعشق زندهنم یعنی اگر تیر سے کوچہ میں عشاق کے سروں کو کاٹنے کا حکم دے دیا جائے تو سب سے پہلے جو عشق کا شور مچائے وہ میں ہوں گا پس یہ ٹھیک ہے کہ بعض حکومتیں ایسا ظلم بھی کر سکتی ہیں جیسا کہ روس میں ہو رہا ہے کہ وہاں مذہب کو بالکل بیکار کر دیا گیا ہے۔اسی طرح اور بھی ایسے ممالک ہو سکتے ہیں لیکن میرے خیالی میں روس سے زیادہ ان میں مذہب پر پابندی نہیں ہوسکتی۔آجکل کی ظاہری روش اور جمہوری خیالات کے نتیجہ میں کوئی حکومت روس کا سا طریق اختیار نہیں کر سکتی اور کوئی قوم ایسی نہیں جو مذہب میں اس حد تک دخل دے پس عقلی بات تو یہی ہے کہ کوئی حکومت افراد کے مذہب میں دخل نہیں دے سکتی لیکن کوئی حکومت اگر عقل سے باہر جا کہ ایسے قوانین بنا ولے جو مذہب میں روک پیدا کر دیں۔اور الفاظ کی تبدیلی سے کام نہ بنے تو ہم بھی کہیں گے کہ تم ہمیں گولی مار دو لیکن ہم اپنے اصول کو نہیں چھوڑیں گے ہم مرتے جائیں گے لیکن صداقت کا انکار نہیں کریں گے۔موت سے زیادہ حقیر چیز اور رہے ہی کیا ؟ ساری چیزوں پر کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا ہے۔دستخطوں کے لئے سیاہی لینے جائیں تو اس پر بھی دھیلہ خرچ آجاتا ہے لیکن موت پر کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا موت آخر آتی ہے اور جو چیز ضرور آتی ہے اس پر خرچ کیا آئے گا پس یہ ٹھیک ہے کہ جہاں تک ہم سمجھتے ہیں آجکل کی متمدن دنیا میں کسی حکومت کے قوانین مذہب کے بارہ میں اس حد تک نہیں جایا کرتے کہ وہ ظالمانہ صورت اختیار کر جائیں بعض جگہوں پر حکومتیں ایک حد تک سختی کرتی ہیں مثلاً ساؤتھ افریقہ کی حکومت نے یہ قانون بنایا ہے کہ کالے گوروں سے الگ رہیں لیکن وہ یہ نہیں کر سکتی کہ کالے ملک میں نہ رہیں۔اس نے یہ کہا ہے کہ گورے اور کالے ریلوں میں اکٹھے سفر نہ کریں لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ کالے سفر یہی نہ کریں۔اس نے یہ کہا ہے کہ گوروں کے ہسپتال میں کالے نہ جائیں لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ کالوں کا علاج ہی نہ ہو۔استے یہ کہا ہے کہ گورے اور کالے آپس میں شادی نہ کریں لیکن وہ نہیں کہتی کہ کالے شادی ہی نہ کریں