تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 296 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 296

۲۹۲ اُن دنوں پاکستان کے مختلف حلقوں میں خاص مسئله اقلیت متعلق اہم خطبه جمعه ا طور پر یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ پاکستان کی مرکزی حکومت احراری ایجی ٹیشن سے متاثر ہو کر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے گی۔اس خدشہ کی بناء پر حضرت مصلح موعود نے نمائندہ لنڈن ڈیلی میل کو بیان دینے کے علاوہ ۱۸۔ظهور ۱۳۳۱ اہش کر ۱۸ اگست ۱۹۵۲ء کو مفصل و مبسوط خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں حضور نے مسئلہ اقلیت کے مختلف امکانی گوشوں پر بصیرت افروز روشنی ڈالی اور بحیثیت خلیفہ آسیج اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔یہ خطبہ اس موضوع پر ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا تھا۔حضور نے فرمایا :۔یکس نے کہا تھا کہ اگر حکومت احمدی نام کو خلاف قانون قرار دید سے تو ہم احمدی مسلمان کی جگہ محض مسلمان کہلانا شروع کر دیں گے کیونکہ ہمارا اصل نام مسلمان ہے احمدی تو اس کے ساتھ صرف امتیاز کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، هُوَ سَتْكُمُ المسلمين اُس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے پس جب ہمارا اصل نام سلمان یہی ہے تو اگر کوئی حکومت احمدی نام پر پابندی لگائے گی تو ہم صرف مسلمان کہلانے لگ جائیں گے۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور بعض اخبارات نے بھی لکھا ہے کہ آجکل کی حکومتیں، ایسی نہیں جو محض نام پر پابندی عائد کرنے پر اکتفاء کریں یہ جکل نظم ونسق اس قسم کا ہے کہ جب لوگ سوال کرتے ہیں تو اس سے کوئی چیز با ہر نہیں نکل سکتی۔یہ درست ہے کہ انسان اگر کرنے پر آئے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ جہاں ہم اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی حکومت ایسا حکم دے جو افرات کے مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور وہ ہماری اصولی چیزوں سے ٹکراتا نہ ہو تو ہم جماعت کو یہ تعلیم دیں گے کہ وہ حکومت کی اطاعت کرنے وہاں شریعت یہ بھی کہتی ہے کہ اگر تمہارے ایمان کا امتحان ہو اور تمہارے سروں پر آرے رکھ کر تمہیں چیر دیا جائے تو تم آخر تک چر جاؤ لیکن ایمان کو ضائع نہ ہونے دو۔پس جہاں یہ ٹھیک ہے کہ کوئی حکومت ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اس قسم کے عقل کے خلاف احکام دیدے اور وہ افراد کے مذہب میں مداخلت کرے ه الحج : 29