تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 294
٢٩٠ کر دیا ہے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہمارا روپیہ مدینہ کیوں جائے بنجد کا روپیہ نرین خریج ہونا چاہیئے، بکرین کا روپیہ بر ہی میں خرچ ہونا چاہیئے مدینہ اپنے اخراجات کا خود انتظام کرے ہم روپیہ علاقہ سے باہر نہیں لے جانے دیں گے تو صحابہ نے آپس میں مشورہ کیا اور حضرت عمرہ کو حضرت ابو کرین کے پاس بھیجا حضرت عمر نے کہا وقت نازک ہے آپ لوگوں کو کچھ وقت تک ڈھیل دے دیں آہستہ آہستہ ان میں اسلام آ جائے گا تو وہ زکوٰۃ دے دیں گے حضرت ابوبکر ا نے فرمایا عمرہ تم وہ بات کہتے ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہی۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اونٹ باندھنے کی ریتی بھی بطور زکواۃ دیا کرتے تھے تو میں اور سے وہ رسی بھی لیکر چھوڑوں گا۔اور اگر کوئی شخص زکواہ نہیں دے گا تو اس سے لیکن اس وقت تک لڑوں گا یہاں تک کہ کین مارا جاؤں یا وہ مارے جائیں عمر اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے ؟ اگر دشمن ، بینہ کی تمام عورتوں کو ماردے اور گھتے ان کی لاشیں مدینہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھریں تب بھی یکی ڈروں گا نہیں۔اب دیکھو مدینہ خطرہ میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔شہ سلمان کا گھر، مال اور اس کی عربات خطرہ میں ہوتی ہے لیکن حضرت ابو بکرانہ کے منہ سے یہ فقرات نکلتے ہیں تو ہر مسلمان امنا و صدقنا کہہ کر اطاعت پر تیار ہو جاتا ہے۔یہ اجتماعی روح کا کمال تھا۔پھر اسلام پر وہ زمانہ آیا جب خلافت کے پر نچے اُڑ گئے۔اب مسلمانوں کے لئے انفرادیت دکھانے کا وقت آیا اور اس میں بھی انہوں نے کمال کر دکھایا۔کوئی ایران چلا گیا، کوئی افغانستان پہلا گیا ، کوئی افریقہ کے صحراؤں کی طرف چلا گیا اور کوئی چین چلا گیا۔آجکل جو کروڑوں کروڑ مسلمان ان ممالک میں موجود ہیں وہ انہی لوگوں کی اعلیٰ درجہ کی انفرادیت کا نمونہ ہیں۔پیس صحابہ منا کو جہاں انفرادیت میں کام کرنا سکھایا گیا تھا وہاں اجتماعیت میں بھی انہوں نے کام کیا۔وہ یہ بھی بجانتے تھے کہ ایک ہرار کے ماتحت کس طرح کام کیا جاتا ہے اور یہ بھی جانتے تھے کہ فرداً فرداً کام کس طرح کر نا چا ہیے۔چنانچہ اب بھی بیوی میں ایسے صحائی کی قبریں موجود ہیں جو اس وقت ہندوستان آئے اور یہاں تبلیغ اسلام کی۔خدا کی قدرت ہے کہ سندھ میں یہاں ہم نے زمین خریدی ہے خصوصاً جہاں پر میری ترمین ہے وہاں ایک جگہ ولیہ صابوہ کہلاتی ہے اس جگہ کے متعلق بھی مشہور ہے کہ وہاں کسی صحابی کی قبر ہے۔جب صحابہ نے دیکھا کہ خلافت کے ماتحت جو نظام چلا تھا وہ درہم برہم ہو گیا ہے تو انہوں نے خیال کیا کہ ایے قوت کیوں ضائع کیا جائے وہ دنیا میں پھیل گئے اور مختلف ممالک میں جا کہ انہوں نے اشاعت اسلام