تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 293
۲۸۹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کی وجہ سے عربوں میں اجتماعیت اس حد تک آگئی ہے کہ ایک شخص جو حاکم قوم میں سے نہیں سب قبائل اس کی بیعت کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور انہوں نے بلا چون پھر ا اس کی بیعت کرلی ہے تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا اشهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ انَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوله - آج میرا دل مان گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی بعد اتعالیٰ کے رسول تھے۔اگر سارے قبائل میرے بیٹے کی بیعت کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو یہ کام ایک رسول کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا۔گویا مولوں نے اجتماعیت کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا۔پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر عرب میں پھیلی تو نئے مسلمان مرتد ہو گئے اور وہ مدینہ پر چاروں طرف سے حملہ کر کے آگئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کو اپنی زندگی میں مشام کی طرف جانے کا حکم دیا تھا جس کی روانگی آپ کی وفات کی وجہ سے رک گئی تھی حضرت ابو بکر نے خلافت کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کر دیا صحابہ نے اس بات کو برا منایا اور کہا مدینہ اس وقت ننگا ہوگیا ہے اور یہ بوڑھا شام کی طرف شکر بھیج رہا ہے۔انہوں نے حضرت عمریض کو کہا کہ ابو بکر کو سمجھاؤ شاید اس بوڑھے نے حالات کی نزاکت کو نہیں سمجھا چنانچہ حضرت عروہ آپ کے پاس گئے اور کہا کیا آپ نے لشکر کو شام کی طرف جانے کا حکم دیا ہے ؟ حضرت ابو یکرہ نے فرمایا ہاں حضرت عمر نے کہا کہ میرا اور صحابہ کا مشورہ یہ ہے کہ آپ اس لشکر کو روک لیں کیونکہ چاروں طرف سے اس قسم کی خبریں آرہی ہیں کہ دشمن مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔نئے مسلمان کثرت سے مرتد ہو گئے ہیں اور بہت تھوڑی جگہیں ایسی رہ گئی ہیں جہاں پرانے مسلمان ہیں۔اس حالت میں شکر کا باہر بھیجنا اچھا نہیں جس طرح حضرت ابو کیکر کی جان خطرہ میں تھی اسی طرح حضرت موڑ کی جان خطرہ بھی تھی ، اسی طرح حضرت عثمان کی جان خطرہ میں تھی ، اسی طرح حضرت علی، حضرت طلورہ اور حضرت زیرہ کی جانیں خطرہ میں تھیں، اسی طرح ان کے بیوی بچوں کی جانیں خطرہ میں تھیں ، اسی طرح جوش کر روانہ ہو رہا تھا ان کے بیوی بچوں کی جانیں خطرہ میں تھیں۔اس وقت ہر ایک شخص یہ سمجھ رہا تھا کہ اس وقت اُسے اپنے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر لڑنا چاہیئے اور اپنے بیوی بچوں کی جانیں بچانی چاہئیں لیکن حضرت ابو بکر رض نے فرمایا ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا طاقت ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے شکر کو روک سکے؟ پھر جب ایسی خبریں آنی شروع ہوئیں کہ لوگوں نے زکواۃ دینے سے انکار