تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 292
میں بھی جب شرارت بڑھ گئی تو آپ نے اجتماعیت کو بکھیر دیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میشہ چلے جاؤ اور بعض کو آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کر بھانے کا ارشاد فرمایا۔پھر انہوں نے اپنی اپنی جگہ اکیلے کام کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی انفرادیت اجتماعیت کی شکل اختیار کرگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب خلافت کا دور شروع ہوا صحابہ پر کچھ ابتلاء آئے صحابہ کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتماعیت اور انفرادیت دونوں چیزیں کھائی تھیں۔آپ کی وفات کے بعد حضر او کرایہ تخلیفہ ہوئے۔حضرت ابوبکر ام ایسے خاندان سے نہیں تھے جو حکمران خاندان ہو۔بے شک آپ ایک شریف خاندان کے ایک فرد تھے لیکن وہ خاندان ایسا نہیں تھا کہ دوسرے خاندان اس کی ماتحتی بر داشت کر لیں۔آپ کے والد کا نام ابو قحافہ تھا۔ابو جا نہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ بھی رسمی طور پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کی وفات کی خبر مکہ میں بھی پہنچی۔ابو قحافہ بھی ہیں مجلس میں بیٹھے تھے کہ جس میں پیغا مہر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنائی۔عرب لوگ پراگند تھے کہ محمد رسول اللہ صلی ل صل اللہ علیہ وسلم نے آکر انہیں ایک نظام کے ماتحت کر دیا جس طرح اس شخص کی زندگی اہین کے لئے نرالی تھی اسی طرح اس کی وفات بھی ان کے لئے نرالی تھی۔انہوں نے کہا کہ اب کیا ہو گا؟ اس شخص نے کہا ہوگا کیا۔ایک شخص خلیفہ بن گیا ہے اور اس نے نظام کو دوبارہ قائم کر دیا ہے۔انکا خیال تھا کہ عربوں کی تلواریں میانوں سے نکل آئی ہوں گی اور قتل و غارت شروع ہو گئی ہوگی۔انہوں نے دریافت کیا کہ کسی شخص کو خلیفہ منتخب کیا گیا ہے تو پیغا مہر نے کہا ابو بکرہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا ہے۔ابو قحافہ کو اس بات پر یقین نہ آیا انہوں نے خیال کیا میرا بیٹا خلیفہ نہیں ہو سکتا کوئی اور ابو بکر ہوگا جس کی اطاعت سب سوب قبائل نے قبول کر لی ہے۔چنانچہ انہوں نے دوبارہ دریافت کیا کون الو برای اشخص نے کہا وہی ابو بکر جو آپ کا پرانا ساتھی اور دوست تھا۔ابو قحافہ نے پھر دریافت کیا کیس کا بیٹا ؟ تو اس شخص نے کہا تیرا بیٹا۔ابو قحافہ کے لئے یہ عجیب بات تھی عرب قبائل آزاد تھے، بختور تھے اور اپنے سے چھوٹے آدمی کی اطاعت نہیں کرتے تھے لیکن سب سوالوں نے حضرت ابو بگردین کو مان لیا اور خونریزی کے اخیر مان لیا۔یہ بات ابو قحافہ کے لئے نہایت عجیب تھی اس لئے انہوں نے دوبارہ دریافت کیا کہ کیا بنو ہاشم نے ابوبکر کی بیعت کر لی ہے ؟ اس شخص نے کہا ہاں ابو قحافہ نے پھر کہا کیا بو عبد المطلب نے ابو بکر کی بیعت قبول کرلی ہے؟ اس شخص نے کہا ہاں۔ابو قحافہ نے جب یہ سنا کہ کیا