تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 290
۲۸۶ کہ ان فسادوں ، شورشوں اور منصوبہ بازیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائے۔دیکھو رمضان کے مہینہ میں اپنی مرضی اور ارادے سے ایک پروگرام کے ماتحت انسان تکلیف اٹھاتا ہے۔وہ رات کو اُٹھتا ہے۔بے شک وہ یہ تدبیر کر لیتا ہے کہ اگر گرمی ہو تو وہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرے پھر اگر گرمی کا موسم ہو تو وہ چھت سے باہر تجد کی نماز پڑھ لے اور اگر سردی ہو تو چھت کے نیچے تہجد کی نماز پڑھ لے یا گرم لباس نہیں ہے۔پھر اگر وہ بیمار ہے تو بیٹھ کرنماز پڑھ لے صحت اچھی نہیں ہے تو زیادہ عمدہ غذا کھا لے یا اگر معدہ خراب ہے تو نرم غذا کھائے۔پیاس کے دن ہوں تو دو تین گلاس پانی کے اکٹھے پی لے یا چائے کی ایک پیالی پی لے تا تکلیف دور ہو۔دن کو گرمی کی تکلیف ہو تو وہ سائے اور ٹھنڈک میں رہے تاگرمی کی شدت کم ہو مگر با وجود اس کے کہ رمضان میں تمہارے پاس ایسے ذرائع موجود ہوتے ہیں جن سے تم گرمی کی شدت کو کم کر سکتے ہو پھر بھی تمہاری تکلیف کو دیکھ کر خدا تعالی فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں میں دعائیں سکنے کے لئے آسمان سے نیچے اتر آتا ہوں اور کہتا ہے مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔پس اگر خدا تعالیٰ روزہ میں جس کی تکلیف کم کی جا سکتی ہے، جس کے مزار سے بچنے کے لئے تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں مومن کے لئے اتنی رعایت کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے چونکہ تم تکلیف اُٹھاتے ہو اس لئے میں تمہارے قریب ہو جاتا ہوں۔اجیب دعوة الداع اذا دھانے میں اس پکارنے والے (یعنی روزہ دار) کی آوازہ کو سنتا ہوں اور یکیں اس کی دعائیں قبول کرتا ہوں۔پھر ان تکالیف اور مصائب میں جو تمہارے اختیار میں نہیں جن کو کم کرنے کے لئے تم کوئی تدبیر نہیں کر سکتے ان میں وہ تمہارے کسی قدر قریب ہو جائے گا۔ظاہر ہے کہ اگر روزہ میں خدا تعالیٰ تمہارے لئے بے چین ہو جاتا ہے کہ جس میں ہر قسم کی سہولت ہم پہنچانا تمہارے اختیار میں ہوتا ہے تو دوسرے آلام اور مصائب میں وہ کتنا قریب ہو جاتا ہو گا۔مومن کو را بتلاؤں میں خوشی محسوس ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے قریب آگیا ہے " سے حضور نے اس خطبہ کے بعد ۲۶ تبوک ۱۳۳۱ اہش / ۲۶ ستمبر ۱۹۵۲ء کو اسی موضوع پر ایک اور خطبہ دیا جس میں خصوصاً نوجوانان احمدیت کو نصیحت فرمائی کہ :۔اگر تم احمدیت، اسلام اور مذہب سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو وہ فائدہ تم اس وقت ه البقره : ١٨٤ : له الفضل فی ۱۳۳۱ پیش ۱۸ اگست ۱۱۹۵۷ ۳۰ به