تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 289
رب العلمين لے ۲۸۵ ایکم طور ۱۳۲۱ امیش مطابق یکم اگست ۱۹۵۲ء کو محرر او ابتلاؤں میں لقاء الہی کی بشارت مصلح موعود نے جماعت احمدیہ کو خوشخبری یک اگرچہ ہم ابتلاء سے دو چار ہیں مگر خدا کے قرب کو پانے کے یہی ایام ہیں حضور نے فرمایا :- دی ان ایام میں جو فتنہ پاکستان کے مختلف حصوں خصوصاً پنجاب کے مختلف مقامات میں پیدا ہو رہا ہے اگر چہ حکومت کے بعض اعلانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رپورٹوں کے مطابق اس میں کمی آرہی ہے لیکن جو ہماری اطلاعات ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کمی نہیں آرہی بلکہ وہ اپنی جگہ بدل رہا ہے بعض جگہوں سے ہٹتا ہے اور پھر آگئے بعض دوسری جگہوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔جہاں تک فتنہ کا سوال ہے میرے نزدیک کوئی اول درجہ کا نا واقف اور جاہل احمدی ہی ہو گا جو یہ کہے کہ یہ فتنہ ایسی چیز ہے جس کی مجھے امید نہیں تھی۔تم دریا میں گووتے ہوا اور بعد میں شکایت کرتے ہو کہ مارا جسم گیلا ہوگیا ہے یا تمہارے کپڑے گیلے ہوگئے ہیں۔تم آگ میں ہاتھ ڈالتے ہو اور کہتے ہویری اُنگلی جل گئی ہے یاتم دھوپ میں بیٹھتے ہو اور کہتے ہو مجھے گرمی لگتی ہے یا تم مبرون پیتے ہو اور کہتے ہو مجھے ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے تو یہ کوئی عقل کی دلیل نہیں۔تم برف پیتے ہو تو یہ مجھ کر پیتے ہو کہ تمہیں ٹھنڈی لگے گی۔تم دھوپ میں بیٹھتے ہو تو یہ مجھ کر بیٹھتے ہو کہ تمہیں گرمی لگے گی۔تم آگ میں تم ہاتھ ڈالتے ہو تو یہ سمجھ کر ہاتھ ڈالتے ہو کہ تمہارا جسم قبل جائے گا یا تم دریا میں کودتے ہو تو تم یہ جانتے ہوئے گو تے ہو کہ ہمارا جسم گیلا ہو گا۔پس جب تم ایک صداقت کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے ہو اور تم نے مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا کرنے کی آواز کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بلند ہوئی ہے سنا یا مان لیا تو تمہیں لازماً اس بات کے لئے بھی تیار ہونا پڑے گا کہ لوگ تمہاری مخالفت کریں ، شورشیں برپا کریں اور تمہارے خلاف منصوبہ بازی کی بھائے نہیں کون احمدی ہے جس کے منو اس درست ہوں اور وہ یہ کہہ سکے او ہو یہ کیسا فساد ہے مجھے تو اس کی امید نہیں تھی۔حالانکہ جب وہ احمدی ہوا تھا تو یہ سمجھ کر ہوا تھا کہ لوگ اس کے خلاف نشاد کریں گے ، شورش کریں گے اور منصوبہ بازی کریں گے۔اس کا کام یہ ہے لے ماہنامہ الفرقان" دسمبر ۱۹۷۰ء مثا تا منا