تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 288 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 288

۲۸۴ کے قائل ہیں۔ماہتاب اتنی نبی مسیح موعود ہے۔باقی یہاں تقابل نہیں ہے بلکہ آفتاب کی فیض رسانی اور اہتاب کے فیض کے قبول کرنے کا مسئلہ ہے۔سردار صاحب نے فرمایا کہ حدیث میں تو لا نبی بعدی آیا ہے۔میں نے کہا کہ اس پر گفت گو کرنے سے پہلے یہ مکے ہو جائے کہ ہم نے ہی ایک حدیث مانتی ہے یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب بعد نہیں مانتی ہیں۔فرمانے لگے کہ نہیں سب حدیثیں ماننی ضروری ہیں۔یکی نے کہا کہ پھر حدیث میں مجتہدین کے آنے کا بھی ذکر ہے۔امام مہدی کے آنے کا بھی ذکر ہے۔مسیح موعود کے مبعوث ہونے کا بھی بیان ہے۔اور پھر حدیث صحیح مسلم میں مسیح موعود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دفعہ نبی اللہ کے لفظ سے یاد فرمایا ہے۔احادیث پر مجموعی غور کیا جائے تو وہ قرآن مجید کے عین مطابق ہیں۔حدیث میں صاحب شریعت یا مستقل نہی کے آنے کی نفی ہے اور آیت میں تابع اور مطیع نبی کے آنے کی خبر ہے۔پس قرآن مجید اور حدیث میں واضح تطبیق موجود ہے۔سردار صاحب فرمانے لگے کہ آپ یہ بتائیں کہ آپ پیدائشی احمدی ہیں یا بعد میں آپنے احمدیت کو قبول کیا ہے ؟ یکسن نے کہا کہ سردار صاحب ! اگر کسی شخص کو میں اسلام کی دعوت دوں اور اس کے پاس کوئی عذر نہ رہے تو وہ مجھے کہے کہ آپ پیدائشی مسلمان ہیں یا بعد میں مسلمان ہوئے تھے تو کیا اسکا یہ طریق معقول ہے ؟ فرمانے لگے کہ میں صرف علم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔یکیں وہ طریق اختیارنہ کہ ونگا یکن نے کہا کہ یکی پیدائشی احمدی ہوں میرے والد صاحب مرحوم نے اوائل زمانہ میں احمدیت کو قبولی کیا اور پیدائش کے وقت سے ہی انہوں نے مجھے خدمت دین کے لئے وقف کر دیا تھا لیکں نے اپنی زندگی میں دہریوں ، آریوں ، یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے جملہ فرقوں کے ماہر علماء سے گفت گو اور مناظرے کئے ہیں اور یکن علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم ہوں کہ اسلام کے وہ عقائد - ነ جو احمدیت پیش کرتی ہے وہی تھی اور سب پر غالب آنے والے ہیں۔اس پر سردار صاحب کہنے لگے کہ لیکن تیران ہو رہا تھا کہ ایسا عالم ہم میں سے نکل کر احمدیوں میں کس طرح شامل ہو گیا ہے ؟ میں نے کیا کہ بات تو وہی ہوئی جس کا میں نے اشارہ کیا تھا۔اس مرحلہ پر انہیں ملیں وزراء کے اجلاس کے لئے بلایا گیا۔ہم نے انہیں چند کتب اور ایک تفضل تحریری بیان پیشیں کیا جس کا مطالعہ کرنے کا انہوں نے بخوشی وعدہ فرمایا۔اس طرح یہ گفت گو ختم ہوئی۔وآخر دعوانا ان الحمد لله اه مسلم ( با سید ذکر الدجال ) "