تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 286 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 286

۲۸۲ تو اپنے اصول کے مطابق حکومت سے تعاون کرتے ہیں یہ ہماری مذہبی تعلیم ہے ہمیں کوئی لالچ پاٹھے نہیں ہے۔اس مرحلہ پیر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب مرحوم کی علمی اور بردباری نے پھر ماحول کو تحقیقی اور علمی بنا دیا اور قریباً تین گھنٹے کی یہ مجلس آخر نہایت اچھی فضا میں ختم ہوئی۔خواجہ صاحب کے آخری بیان سے مترشح ہوتا تھا کہ ان کے نزدیک جماعت احمدیہ کو منکر ختم نبوت ٹھرانا یا انہیں غیرمسلم اقلیت قرار دینا بے معنی بات ہے البتہ انہوں نے فرمایا کہ میں یہ اعلان کر دوں گا کہ سرکاری ملازم تبلیغ نہ کیا کریں اور یہ اعلان سب فرقوں پر یکساں حاوی ہوگا۔چنانچہ انہوں نے چند روز بعد یوم پاکستان کے موقعہ پر اپنی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا پہلے مولانا ابو العطاء صاحب مزید سردار عبد الرب ضنا نشتر سے انفرادی ملاقات فرماتے ہیں :۔" وزیر اعظم کے بالائی کمرہ کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے میں نے سردار عبد الرب مرحوم سے کہا کہ آپ ایک علم دوست بزرگ ہیں اگر کبھی موقعہ ملے تو آپ سے فصل گفت گو کرنا چاہتا ہوں۔کہنے لگے کہ ضرور تشریف لائیں۔جب ربوہ واپس پہنچنے پر حضرت امام جماعت احمدیہ سے اس امر کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں جامعہ احمدیہ میں تعطیلات ہیں (یکی اُن دنوں نجا معہ احمدیہ کا پرنسپل تھا، چند دن کے لئے کراچی ہو آئیں۔چنانچہ یک جلد ہی کراچی گیا اور محترم سردار صاحب کو ملاقات کے لئے وقت معین کرنے کے لئے چٹھی لکھی۔غالباً ، ار اگست ۱۹۵۲ء کی تاریخ تھی که یکی اور محترم مولوی عبدالمالک خاں صاحب مرتی کہ اچھی سردار صاحب کے ہاں پہنچے۔وہ ملاقات کے لئے تیار بیٹھے تھے۔خیر و عافیت کی ابتدائی گفت گو کے بعد سردار صاحب نے فرمایا کہ فرمائیے کسی طرح آنا ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں حسب وعدہ آپ کو تبلیغ کرنے کے لئے آیا ہوں کہنے لگے کہ آپ نے وزیر اعظم کا پندرہ اگست والا اعلان نہیں شنا کہ سرکاری آدمی تبلیغ نہ کریں ؟ میں نے کہا کہ میں تو سر کاری آدمی نہیں ہوں میں تبلیغ کرنے آیا ہوں مسکرا کر فرمانے لگے کہ آپ مجھے کیا تبلیغ کریں گے میں تو آپ کی جماعت کے عقائد کا کٹر مخالف ہوں۔کس نے کہا کہ ایسے آدمی کو ہی تبلیغ کرنے کا لطف ہوتا ہے کیونکہ ایسا آدمی جب احمدی ہو گا تو وہ تختہ احمدی ہو گا۔له الفرقان ربوه ماه نومبر ۱۹ منت به حال ناظر اصلاح و ارشاد صد را نحمن احمدیه پاکستان