تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 283
۲۷۹ ۲۔مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ کہیں کا فرنہیں۔لَزَالَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ پر میرا عقیدہ ہے اور ولیکن مرسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایسان ہے۔(کرامات الصادقين ص۲۵ مطبوعه ۱۶۱۸۹۴ ۵۱۳۱۱) ۳۔"ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں " (ایام الصلح ما مجریه ۱۸۹۹ء) ہم عقیدے کی رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نہی ہے۔اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے ، رگشتی نوح ما مطبوعه ۶۱۹۰۲ ) ۵۔آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو اتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا اور اس طرح وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو گائے ریویو پر مباحثہ بٹالوی، پیچکڑالوی منت مطبوعه ۶۶۹۰۲ عث ) ہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبلیقین نہیں مانتے یہ ہم پر افتراء عظیم ہے ہم جس قوت یقین و معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ لوگ نہیں مانتے؟" اخبار محکم به در مارچ ۱۹۰۵ء ست کالم مگ)۔اب بحر محمدی نبوت کے سب بہت تیں بند ہیں شریعیت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہوئی (تجلیات البیہ ص ۲ مطبوعہ ۱۹۰۶ ء صفحه ۱۳۔۔