تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 282 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 282

۲۷۸ "تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا بھائے گا۔نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر آپ کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور رفیع نہیں مگر مر مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہستم کوشش کرو کہ سچی محبت اس بجاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کیسی نوع کی بڑائی مست دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ (کشتی نوح ما میں نے مؤثر انداز میں یہ عبارت پڑھتے ہوئے اصل کتاب جناب وزیر اعظم کے سامنے رکھ دی اور پھر عرض کیا کہ جب ہمیں بائی سلسلہ احمدیہ نے قرآن مجید پر ایسے مضبوط ایمان کی تلقین فرمائی ہے اور قرآن مجید کی صریح نص ہے مَا كَانَ محمد ابا احدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِن بلا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو آپ یہ امکان کس طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کریں؟ ایسا الزام سراسر غلط اور باطل ہے۔یکی نے عرض کیا۔محترم وزراء کرام !! اگر علماء کرام یہ کہتے کہ خاتم النبیین کے معنوں اور تفسیر میں ہمارا احمدیوں سے اختلاف ہے تو بات قدرے معقول ہوتی مگر انہوں نے تو آپ کو بھی اور سارے ملک کے باشندوں کو بھی یہ کہا ہے کہ احمدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ظاہر ہے کہ ان کا یہ زعم ہرگز درست نہیں۔پھر میں نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب سے مندرجہ ذیل و حوالہ جات مجلس میں بلند آواز سے شنائے اور ہر حوالہ پر اصل کتاب میز پر کھول کر سامنے رکھ دی بھاتی تھی۔وہ حوالہ جات یہ ہیں :۔ا۔لیکن جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج کھتا ہوں یہ اشتهار تقریر واجب الاعلان هث مطبوعه ۱۸۹۹۱ ز مشموله تبلیغ رسالت جلد دوم ۱۲:۳ اکتوبر ۶۱۸۹۱) ه احزاب : ۴۱