تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 276 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 276

۲۷۳ قائد اعظم کا مسلک امین مندرجہ بالا بیان قائد اعظم کی اس مستقل پالیسی اور عملی مسلک کے عین مطابق اتاکہ تمام کلمہ گو بلا تفریق فرقہ سب سلمان ہیں اور پاکستان کی آئینی و قانونی جنگ میں مسلم لیگ کی کامیابی کا سارا راز اسی نکتہ میں عمر تھا جیسا کہ قائد اعظم نے ۲۳ مئی ۱۹۴۷ کو کشمیر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- مجھ سے ایک پریشان کن سوال پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں سے مسلم لیگ کا نمبر کون بن سکتا ہے ؟ یہ سوال خاص طور پر قادیانیوں کے سلسلے میں پوچھا گیا میرا جواب یہ ہے کہ جہاں تک آئی انڈیا مسلم لیگ کے آئین کا تعلق ہے اس میں درج ہے کہ ہر سلمان بلا تمیز عقیدہ و فرقہ مسلم لیگ کا ممبر بین سکتا ہے بشرطیکہ مسلم لیگ کے عقیدہ، پالیسی اور پروگرام کو تسلیم کرے، رکنیت کے فارم پر تحفظ کرنے اور دو آنے چندہ ادا کرے۔کیکی جموں وکشمیر کے مسلمانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ فرقہ وارانہ سوالات نہ اُٹھائیں بلکہ ایک ہی پلیٹ فارم پر ایک ہی جھنڈے تلے جمع ہو جائیں اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے۔اس سے نہ صرف مسلمان مؤثر طریقے سے سیاسی ، سماجی تعلیمی اور معاشرتی ترقی کر سکتے ہیں بلکہ دیگر اقوام بھی اور حیثیت مجموعی ریاست کشمیر بھی اللہ حضرت مصلح موعود کا بیان جاری فرمایا :- " امام جماعت احمدیہ حضرت مصلح موعود نے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے موقف کی حمایت میں استقامت دکھانے پر حسب ذیل پنجاب مسلم لیگ کو نسل کے اتوار کے اجلاس کی رپورٹ میں نے مطالعہ کی ہے جو الفاظ احراری احمدی تنازعہ کے متعلق قرار داد میں کہے گئے ہیں مجھے اُن سے اختلاف ہو سکتا ہے ہے لیکن اس قرار داد کے متعلق جو بحث کو نسل میں ہوئی ہے اس سے ایک بات نہایت نمایاں طور پر واضح ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ پنجاب کی سیاسی دنیا میں وزیر اعلی میاں ممتاز محمد تقان دولتانہ کے وجود میں ایک ایسا انسان موجود ہے جو اپنے معتقدات کی خاطر اپنے دوستوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی مخالفت کے علی الرغم استقامت دکھانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے یہ نہایت صحتمند آثار ہیں۔اگر پاکستان مه هفت روزه اصلاح سرینگر کشمیر) ۱۳ جون ۶۱۹۴۴ م : سه رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کے صفحہ ۹۶-۹۷ پر اس قرارداد کا مکمل متن درج ہے ،