تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 257
۲۵۴ آپ حضرات کے لئے یہ فرصت کا وقت اور اپنے تحفظ کے ذرائع پر غور کرنے کا قدرتی موقع ہے اور یہ کام موجودہ تعاون سے زیادہ اہم اور قابلِ تو یہ ہے۔یہ لوگ جائیں ان کے بھائی قادیانی جانیں نہ ہم گھر ان سے مطلب جنہوں نے سر سندی کو دوسری ہزار صدی کا مجدد مانا اور نہ ان سے واسطہ جنوں نے مرزا غلام احمد کو چودھویں صدی کا مجد د مان لیا اور نہ ان سے تعلق جنہوں نے خاتم المرسلین کی نبوت کو جبریل امین کی طرفداری کا نتیجہ قرار دیا ورنہ حضرت ابو بکرہ ہی ہوتے۔نہ ایسے لوگوں سے غرض جو مرزا غلام احمدکو نبی جانتے ہیں۔اصل یہ ہے کہ سواد اعظم نے تو وہیں رسول خدا میں کونسی کسر باقی رکھی جو قا دیانی پوری کریں گے۔فقط یا لے ابزرگان امت محمدیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تحریرات سے احمدی عظیم کلام کی برتری کا چونکہ ختم نبوت کے اُن معنون کی تائید ہوتی تھی جو احمدی تعلیم بالواسط اعتراف اور تحسیب جوتے کلام نے پیش کئے ہیں اس لئے ان دونوں بعض غیر احمدی نے اصحاب نے یہ دلچسپ تجویز پیش کی کہ ہمارے علماء کرام کو چاہیے کہ ہمارے ان بزرگوں کا لڑ پچر ہی غائب کر دیا جائے۔یہ تجویز ایک ٹریکٹ کی شکل میں شائع کی گئی جس کا متن یہ تھا :- یہ عمل کا وقت ہے خاموشی کا نہیں برادران !! احرار اسلام مولوی عبد الحاء، صاحب بدایونی اسید سلیمان صاحب ندوی اور مولوی احتشام الحق صاحب دیوبندی لئے مسلمانوں کی ترقی کے لئے ایک کشادہ راستہ کھول دیا ہے یعنی یہ کہ جو لوگ بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں لیکن اہل سنت و الجماعت کے عقائد سے یا بالفاظ دیگر اس وقت کے علماء سے اختلاف رکھتے ہیں انہیں اسلام سے باہر کیا جائے تا آئندہ اختلافات کی کوئی صورت ہی باقی نہ رہے۔نہ رہے گا بانس نہ باجے کی بانسریا۔اس عمدہ نسخہ کے ذریعہ سے امید ہے کہ آئند مصلحت دیکھتے ہوئے مناسب وقت پر لعیض اور فرقوں کو بھی اسلام (سے) باہر کرنے اور اختلاف کا نام ونشان مٹا دینے کی صورت نکلتی رہے گی۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے بہت سے ممالک میں جہاں تک ہماری دسترس نہیں یہ کانٹ موجود رہے گا اور اسلام کے وہ معنی نہیں مجھے بجائیں گے جو یہاں کے علماء سمجھتے ہیں بلکہ وہی پرائے معنے جو امام ابوحنیفہ اور بعض دوسرے بزرگوں کی طرف منسوب ہیں سمجھے }} در نجفت سیالکوٹ ۲۴ اگست ۱۹۵۴ ۶ بجواله الفضل ۲۶ اگست ۱۹۵۲ء حث به