تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 256
۲۵۳ ہر سہ حضرات تقریباً تین سال ہوئے جلیانی متصل بھر یا روڈ (سندھ) آئے تو اپنی تقریر میں کہا مخلفائے راشدین تو بڑی چیز ہیں اگر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بھی کوئی شخص گستاخی کا کلمہ کہے تو کافر خارج از اسلام اس پرسید امام علی شاہ صاحب ریگیس بھر یا رسٹی سے بحث ہوئی۔دوران بحث میں فدک کا ذکر آگیا تو اپنی مولوی صاحبان نے برجستہ کہا " حضرت ابو بکر مفتی پر تھے بی بی فاطمہ زہرا کی تخت غلطی تھی جو نا جائز دعوی لے کر ان کے پاس گئیں ، ان خیالات اور ایسے دریدہ دہن لوگوں سے علماء شیعہ کا اتحاد کسی جگہ ممکن ہے ؟ مولوی محمد علی صاحب جالندھری نے بجا مع مسجد خیر پور میرس میں اہلبیت رسول علیہم السّلام کی شان میں جس قدر سب وشتم کر کے شیعوں کی دل آزاری کی اہل خیر پور ہی خوب واقف ہیں بالخصوص محصولہ عالم کی ذات پر جو استرا الزامات لگائے بس خدا کی پناہ۔آج تک اہالیان خیر پور بے چین ہیں۔کیا اس کے بعد بھی تعاون درست ہے ؟ حضرات علماء کرام کو سمجھتے رہنا چاہیے کہ قادیا نیوں سے ان کی ناچاقی ان کا گھریلو معاملہ ہے کسی سیاسی مصلحت سے ناراض ہو گئے تو اپنی کمزوری محسوس کر کے آپ حضرات کو اپنا ساتھی بنانے کی کوشش کی۔آؤ بھگت کرکے ریا کاری کا مکمل مظاہرہ کر رہے ہیں جانتے ہیں کہ قادیانی علماء کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ان کا منہ توڑ جواب اگر دے سکتے ہیں تو علمائے شیعہ اس لئے آپ کو ہر تدبیر سے ہمنوا بنا کر وقتی کام نکالنا چاہتے ہیں اور وقت نکل جانے پر حسب دستور قدیم آنکھیں پھر بائیں گی غنیمت ہے۔اس وقت سواد اعظم اور ہمارے درمیان یہ قادیانی موجود ہیں اگر کبھی ان کو اس گروہ سے فرصت ملی تو دوسرا قدم ہمارے سروں پر رکھنے کی کوشش کریں گے۔وہی ہتھیار جو آج قادیانیوں کی گردن پر چلا رہے ہیں کل کو براہ راست دوبارہ تیز کو کے ہماری گردنوں پر پھیلائیں گے جس طرح انکاری خاتمیت کی وجہ سے قادیانیوں پر کفر کے فتوے لگائے جارہے ہیں کل کو انکا ایلافت ثلاثہ کی وجہ سے ہم پر صادر ہو کر مطالبہ پیش کریں گے چونکہ روافض خلفائے راشدین سے حسن عقیدت نہیں رکھتے ان کی خلافت و امامت کے منکر ہیں۔اس لئے کا فر ہیں ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس لئے بصد ادب التجاء ہے کہ آپ اپنی اور اپنی پوری قوم کی حفاظت کی تدابیر پر غور کریں تا کہ بر اور این یوسف جب قادیانیوں سے فرصت پا کر ہماری طرف رخ کریں تو ہم بھی پوری طرح سے تیار ہوں۔