تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 255
۲۵۲ کا اعتراف کر چکے ؟ عزاداری سید الشہداء علیہ السلام کو بدعت کہنا چھوڑ دیا ؟ اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو آپ حضرات کا ان سے کسی معاملہ میں تعاون کیا معنی رکھتا ہے؟ تعجب ہے جو لوگ رسول خدا پر طرح طرح کے الزامات قسم قسم کے اتہامات لگاتے رہے پیغمبر اسلام کو (معاذ الله) خاطی، گنهگار وغیرہ وغیرہ قرار دے کر نبوت رسالت تو در کنار آپ کی شرافت و نجابت سے بھی انکار کرتے رہے خدا جانے آج اثبات ختم نبوت پر کس منہ سے تیار ہوئے ہیں ؟ اور اس سے زیادہ تعجب خیز و حیرت انگیز علمائے شیعہ کا ان سے تعاون ہے۔اگر ایک خالی غیرمعصوم جس کی حیثیت بڑے بھائی سے زیادہ نہ ہو اس کی ختم نبوت تو در کنار اصل نبوت ہی ثابت نہ ہو تو کیا تعجب ؟ بالخصوص جبکہ اس جماعت کے سرپرست مولوی عنایت اللہ شاہ بخاری ، مولوی محمدعلی صاب جالندھری ، مولوی لعل حسین اختر جیسے حضرات ہوں تو ہمارا تعاون حیرت بالائے حیرت ہے ہے۔یہ لے ۳ جولائی 19۵۵ء کی بات ہے کہ کوٹ سما یہ تحصیل و ضلع رحیم یار خان میں ایک مناظرہ ہوا جس میں غیر عالم جناب مولوی محمد محبیل صاحب گوجرہ نے حضرت امام علی القاری رحمہ اللہ کی یہ عبارت پڑھی ہے فلا يناقض قوله تعالى خاتم النبيين اذا لمعنى انه لا يأتي نبي بعده ينسخ ملته ولم يكن من امته (موضوعات کبیر صفحہ ۵۸ ۵۹ یعنی حضور کے بعد کسی نبی کا آنا خدا کے قول خاتم النبیین کے مخالف نہیں ہے۔اس آیت کے محتے یہ ہیں کہ حضور کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کی بات کو منسوخ کر دے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔مولوی محمد اسمعیل صاحب نے یہ حوالہ پیش کرنے کے بعد کہا" یا معشر العلماء بالله خبر وا۔او احرار و تنظیم کے عالمو ! تاج و تخت ختم نبوت کے جھوٹے محافظو با خدا لگتی کہو کہ ملا علی قاری اور مرزا قادیانی کے تے یہ ہیں کیا فرق رہا۔اگر مرزا قادیانی کافر ہے تو ملا علی قاری کیا ہیں ؟ یہ ہے تمہاری ختم نبوت جس کے لئے عوام کو ٹوٹتے پھرتے ہو یہ الشمعيار الصحابة مرتقبه جناب خادم بخاری صاحب، ناشر شیعه دار تبلیغ گوجرہ ضلع لائلپور)