تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 250 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 250

۴۴۷ دعا کرنی چاہیئے کہ و علماء مذکور کو اس غلط طرز عمل سے بچائے اوریا مجھ کو اس دنیا سے جلدی اُٹھالے تاکہ یکن اپنی مسلمان قوم کی تباہی اور پاکستان کی تباہی نہ دیکھوں جو ایسے غلط کاموں سے ہوتی ضروری ہے یہا سے -4 مولوی عبدالحمید خان صاحب مدیر رسالہ مولوی (دہلی) ( ذوالحجہ ۱۳۷۷ھ مطابق تمبر ۱۹۵۲ء) نے حسب ذیل اداریہ سپر و اشاعت کیا۔" اب ذرا ان کو بھی دیکھئے۔یہ بھی اسی بار عیب بھارت کے مسلمانوں کے خوش نصیب بھائی ہیں جن پر خدا کا فضل ہوا۔آزادی ملی، مختار ہوئے، اپنے آپ حاکم بہتے ، اپنی قسمتوں کے مالک ہوئے۔جہاں بھارت کے مسلمان آسمانی بلاؤں، اپنے وطنی بھائیوں کی بے انصافیوں سے پامال ونڈھال وہاں ان ہی کے صدقہ میں پاکستان والے چونچال نال نہال اور خوش حال ہوئے۔ہم نے فاقوں پر بھی بھوک سے واویلا نہ کی کہ اسلام صبر کی تلقین کرتا ہے ہم نے اپنی بے عزتی پور بھی لیکن نہ کیا کیونکہ قرآن کا فرمان تھا کہ نہیں آتی تم پر کوئی مصیبت مگر تمہارے ہی ہاتھوں یا آب یکی کا موقعہ تھا نہ شکوہ کا وقت غم ہے تو یہ اور صرف یہ کہ مسلمان کہیں پیٹ کے لئے دین نہ پیچ دیں اور کمیونزم کے سیلاب میں نہ یہ جائیں کہ اس سے بھوک تو مٹے گی۔تن پوشی تو ہو گی مگر بہت بڑی قیمت دے کہ ایمان و اسلام۔ہم سر جوڑ کر بیٹھنے کے سو سو جتن کرتے ہیں۔لڑنا بھول گئے۔ایک دوسرے کے آنسو پونچھتے ہیں کہ اللہ کو راضی کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے بلکہ شاید ہی ایک طریقہ ہے۔جب سیلاب آتا ہے تو شیر اور بھیڑ دونوں برابر کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ تو مصائب کا سال ہے۔ان کا بھال جن کو اللہ نے بندوں سے بے خوفی دی یہ ہے کہ ان کو اللہ کا بھی خوف نہ رہا اور وہ سب کچھ کیا جو اللہ کے پسندید و دین اسلام کے یکسر خالات تھا منہیات قبول کرنے کے ساتھ وہ آپس میں بھی شروند سے دست و گریبان ہونے لگے۔اگر آنکھیں فاضل نہ ہوتیں تو اللہ کی ایک ہلکی سی تنبیہ کافی تھی کہ اللہ نے ان کا رزق کم کر دیا۔جو ملک دوسرے ممالک کو غلہ فراہم کرتا تھا آج لے بحوالہ روزة من الفضل الاسود الجولائی ۱۹۵۲ء مطابق از وفا ۱۳۳۱ پیش ص : سے ہوشیار چالاک سمجھدار۔توانا (فرہنگ آصفیہ کہنے