تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 249 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 249

۲۴۶ اور امریکہ اور اسلامی دنیا میں جو خدمات پاکستان کی انجام دی ہیں وہ بے مثل ہیں۔اگر پاکستان کی تخت گاہ کراچی میں مسلمان ان کی مخالفت کریں گے تو امریکہ اور یورپ اور اسلامی ملکوں کے دیوی سے پاکستان کا وقار جاتا رہے گا۔مجھے یقین تھا کہ کراچی میں مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی اور مولانا سید سلیمان صاحب ندوی ہے معالم فہم اور تاریخ کے ماہر موجود ہیں وہ عوام کی غلط فہمیاں دور کر دیں گے اور یہ فتنہ زیادہ نہ پڑھے گا مگر یہ میرا خیال غلط ثابت ہوا اور اخباروں نے ایک ایسی خبر شائع کی کہ میرا دل پاش پاش ہو گیا یعنی اخباروں نے شائع کیا کہ مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی اور مولانا سید سلیمان صاحب ندوستی وغیرہ علماء نے جمع ہو کر ایک نیا جلسہ کیا جس میں سر ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے الگ کر دینے کا مطالبہ کیا گیا۔مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی کو جب کراچی میں نظر بند کیا گیا تھا تو میں نے کیا چی جا کر حاجی خواجہ شہاب الدین صاحب وزیر داخلہ پاکستان سے کہا تھا کہ آپ نے ایسے عالم کو نظر بند کیا ہے جس نے ساری عمر سلم لیگ کی خدمات انجام دی ہیں اور خواہیہ شہاب الدین صاحب نے اس کو تسلیم کر کے نظر بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ان کو رہا کہ دیا تھا۔اور مولانا سید سلیمان صاحب ندوی کی نسبت تو بھارت کے پانچ کروڑ مسلمانوں اور پاکستان کے سب چھوٹے بڑے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آج بھارت اور پاکستان میں ان سے زیادہ گذشتہ تاریخ کے نیک و بد حالات کے نتائج پر کسی دوسرے مورخ کی نظر نہیں جاتی۔پھر میں کیو نکر یقین کر لوں کہ جو کچھ اخباروں میں چھپا ہے وہ درست ہے ؟ اخباروں میں بہت سی غلط باتیں بھی شائع ہو جاتی ہیں۔میں پچاس برس اخبار نویسی کرتا ہوں اور آج کل با وجود بنیائی خراب ہو جانے کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے سب روزانہ اخبار پڑھتا ہوں اور بھارت اور پاکستان کے عوام کے رجحان طبع اور خیالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔اس لئے جب میں نے مذکورہ خبر پر بھی تو بے اختیار میری زبان سے نکلا خبر غلط ہے۔مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا سید سلیمان ندوی کبھی ایسی بے عقلی کا کام نہیں کر سکتے لیکن، اب تک کسی نے اس خبر کی تردید نہیں کی۔پاکستان کے اخباروں کو بھی پڑھا ریڈیو بھی سنتے مگر اس خبر کی حقیقت معلوم نہیں ہوئی۔اگر بچے کچھ علماء مذکور نے ایسا جلسہ کیا تھا تو مجھے خدا کے سامنے سجدے میں گر کر اور رو رو کر