تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 248
۲۴۵ " ختم نبوت اور ہیم --- ایک طرف ایک ایسا شخص ہے جوختم نبوت کا قول منکر ہے (؟) اب دوسری طرت ایک شخص ہے جو قول تو منکر نہیں ہے لیکن عملاً اس کی تکذیب کرتا ہے آپ اس کو مسلمان کہتے ہیں حالانکہ حقیقت میں دونوں ہی ختم نبوت کا انکار کر رہے ہیں زبانی اقرار کی وجہ سے تہی طور پر ہم اس کو کا فرنہ کہیں یہ اور بات ہے لیکن آیا میزان عمل میں بھی کوئی قدرو قیمت وزن رکھے گا یا نہیں ؟ قابل غور ہے۔پھر ذرا سوچئے تو سہی کہ آج دنیا بھر کے مسلمانوں میں کتنے فیصدی ایسے ہیں کہ ختم نبوت کے عملاً معتقد ہیں ؟ جاہلوں اور امتیوں ہی میں نہیں عالموں اور صوفیوں میں بھی قادیانیوں کو کافر کہنے والوں اور ظفر اللہ خان کو وزارت سے ہر طرف کرنے والوں کو بھی ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر سوچنا چاہئیے کہ کہیں خدانخواستہ ہے ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا والا معاملہ تو نہیں ہے؟ کیا ہم نے اپنی سیاست و معیشت ، اخلاق و معاشرت ، حکومت و عدالت سے اس عقیدہ کو عملاً خیر باد نہیں کہہ دیا ہے ؟ کیا ہمارے مدرسے ، سمانتھاہ بھی اب اس کی روح سے تعالی نہیں ہو گئے ہیں۔پھر ایک فریق ایک جرم کی وجہ سے کافر اور گردن زدنی اور دوسرا قریباً اسی محرم کا مجرم لیکن نہ اسلام ہیگڑے نہ ایمان جائے۔(الانصان) لے ۵۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے اخبار منادی بابت ماہ جون ۱۹۵۲ء میں لکھا ہے یں نے مئی کے منادی میں قادیانی جماعت کراچی کی نسبت لکھا تھا کہ اس جماعت کے جلسے کے خلاف جو ہنگامہ ہوا وہ مصلحت وقت کے خلاف تھا۔میں نے قرآن مجید کی آیت بھی لکھی تھی کہ خدا نے فرمایا ہے کہ ہرشخص سے اس کے عمل کا حساب لیا جائے گا دوسروں کے اعمال کی پوچھ کچھ نہیں ہوگی اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں قادیانی جماعت کے عقائد کے ہمیشہ خلاف رہا ہوں اور اب بھی خلاف ہوں مگر موجودہ وقت ایسا نازک ہے کہ مسلمانوں کو شیعہ ہستی ، مقلد ، غیر مقلد کے اختلافات ترک کر دینے چاہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان نے باوجود قادیانی ہونے کے پاکستان بننے کے بعد سے آج تک یورپ له صدق جدید لکھنو مورخه ۵ ستمبر ۱۹۵۷ ء بجوالله الفضل ، اکتوبر ۱۹۵۲ء مث