تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 247
۲۴۴۴ گفته او گفته الله بود سمجھے ہوئے ہیں۔وہ خوش عقیدگی کے فلو میں مبتلا ہیں اور نا دانستہ و غیر شعوری طور پر یہی عملاً خود ختم نبوت کے منکر ہو رہے ہیں کہ غیر معصوم کو معصوم کے درجہ پر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔آرچ سے ۳۰ - ۳۱ سال بیشتر جب تحریک خلافت ہندوستان میں زور شور سے اُٹھی ہر شہر ہر قریہ میں ملیں خلافت بننے لگی اور بوڑھے سے لے کر بچے تک پورے جوش و خروش سے اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگے تو ایک بڑا اہم اور سنجیدہ مسئلہ یہی پیش ہوا تھا کہ آخر مسلمان سمجھا کیس کو جائے گا ؟ اور کن کی فرقوں کو امت سے الگ رکھا جائے گا ؟ اس وقت پورے غور و خوض کے بعد بڑے بڑے علماء و مفکرین امت کے مشورہ سے یہی فارمولا طے ہوا تھا کہ جو بھی اپنے کو مسلمان کہے اور توحیدو رسالت کا قائل ہو پس اُسنے مسلمان سمجھا جائے گا اور اُس کے دوسرے عقائد سے قطع نظر کر لی جائیگی۔ران غلط و باطل عقائد پر جرح یقیناً بجائے خود جاری رہے گی لیکن کسی کلمہ گو کو بھی اسلام کی عام وسیع برادری سے خارج نہ کیا جائے گا۔مجلس خلافت کے زمانہ میں بھی غالباً سر کار کی طرف سے سوال اُٹھا تھا کہ مسلمان کے سمجھا جائے؟ اس کا جواب اس مرد ظریف و لطیف نے یہ دیا تھا کہ جو رائے شماری کے رجسٹرین مسلمان لکھائے۔۔۔وحدت کلمہ کی یہ ضرورت بینیت، اُس وقت تھی تو موجودہ حالت منف وانتشار میں اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔جن حضرات نے دین کے تحفظ کی خاطر اخلاص نیت سے گھر کے فتوے دئے ہیں یقینا وہ عبد الله ماجور ہوں گے لیکن دوسرے شائد معذور ہیں جنہوں نے اپنی فہم و بصیرت کے موافق اس قطع و بریدو عمل اخراج کو امت کے حق میں زہر سمجھا ہے (اور اُن ہی میں مولنا محمد علی اور شوکت علی اور خود قائد اعظم سے لے کر آپ کے صوبہ کے شہر صاحب اور سالک صاحب شامل ہیں، انہیں بھی اخلاص اسلامی اور در دیلی سے مہرانہ سمجھ لیا جائے ہے مولا نا عبد الماجد صاحب د ر یا بادی نے ایک اور خط کے جواب میں لکھا :۔ه صدق جدید ۲ ستمبر ۱۹۹۲ بحوالہ اختبار الفصل یکم اتحاد ۱۳۳۱ ش مطابق یکم اکتوبیمه ۶۱۹۵۲ صفحه ۶۵