تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 246 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 246

۲۴۳ >> وجود شیطان اور اجنہ کا منصوص قطعی ہیں اور منکر اس کا شیطان ہے بلکہ اس سے بھی زائد کیونکہ خود شیطان کو بھی اپنے وجود سے انکار نہیں۔۔۔وہ شخص مخرب دین ابلیس لعین کے وسوسہ سے صورت اسلام میں تخریب دین محمدی کی تشکر میں ہے۔لے اور مفتیان حرم شریف حنفیہ، شافعی ، مالکیہ مغلیہ چاروں مفتی صاحبان کے متفقہ فیصلہ کی تاب نافعی، آپ آج لاسکیں گے ؟ شخص مالی و مصل ہے بلکہ ابلیس لعین کا خلیفہ ہے۔۔۔اس کا فتنہ یہودو نصارے کے فتنہ سے بھی بڑھ کر ہے خدا اس کو مجھے۔واجب ہے اولوالامر پر اس سے انتقام لینا۔۔۔اگر باز آوے تو بہتر ہے ورنہ ضرب اور جنس سے اس کی تادیب کرنی چاہئیے سے مدینہ منورہ کے مفتی احناف کا قلم کیوں پیچھے رہنے لگا تھا ؟ شخص یا تو ملحد ہے یا شرع سے گھر کی کسی بجانب مائل ہو گیا ہے یا زندیق ہے کہ کوئی دین نہیں رکھتا یا اباجی ہے کیونکہ متفقہ کا کھانا مباح بتاتا ہے اور اہل مذہب (حنفیہ) کے بیانات سے مفہوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی تو بہ گرفتاری کے بعد قبول نہیں ہوتی۔۔۔ورنہ اس کا قتل واجب ہے دین کی حفاظت کے لئے اور ولاۃ امر پر واجب ہے کہ ایسا کریں یہ سکے اور شیعہ نیچر یہ اسماعیلیہ کے علاوہ عام اہل اہوا و بدعت و خوارج اور وہابیہ تجدید) اور تازه ترین" مودودیہ سے متعلق جو جو موتی قلم پر وچکا ہے اگر ان سب کے اقتباسات نمونہ کے طور پر ہی نقل ہونے لگیں تو مقابلہ رسالہ نہیں پوری ضخیم کتاب میں جائے مغالطہ سب میں مشترک ہے نہیں یہی ہے کہ نصوص کی تاویل و تغیر کو ہر جگہ انکارو تکذیب کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے اور تاویل تغیر میں ٹھو کر کھانے والوں کو جوش دینی سے مغلوب ہو کر منکرین و مکذبین کے حکم میں رکھ دیا گیا ہے۔اس بے علم و بے عمل کے دل میں اپنے اکابر کی حمد الله گوری عزت و رفعت عظمت و عقیدت موجود ہے لیکن انقیاد کامل کا رشتہ صرف ذات رسول معصوم کے ساتھ محدود و مخصوص ہے اور جو حضرات آج اپنے علماء و شیوخ کے ہر فیصلہ کو ناطق اور ان کے ہر قول کو له حیات جاوید حصہ دوم ص ۲۳ به کے حیات جاوید هسته دوم از مولانا الطاف حسین حالی ها ۲۳ سے حیات جاوید حصہ دو سر خط ۲۳ ہے *