تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 245 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 245

۲۴۲ محمد نظور نعمانی و غیر هم، پھر اس مسلہ پر دہلہ جناب ناظم صاحب تعلیمات دیو بند کے قلم سے کہ" اور صرف مرند اور کافر خارج از اسلام ہی نہیں ہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بھی اس درجہ میں ہیں کہ دوسرے فریق کم ہی نکلیں گے اور اسی متفقہ فتوی میں تائیدی حوالہ حضرت بحر العلوم فرنگی محلی کا بھی درج ہے۔او خود موجودہ امیر شریعت پنجاب آج سے چند سال قبل اپنی لکھنو ( احاطہ شیخ شوکت علی کی تقریروں میں فرقہ شیعہ کے باب میں جو کچھ فرما چکے ہیں اسے کوئی کیسے بھلا دے؟ پھر انہیں حضرات کا فیصلہ ایسے ہی دلائل کی بناء پر اسماعیلیوں اور آغا خاں اور سارے آغا خانیوں کے گھر اور اسلام سے تعلق کیا ہے ؟ اور خود بانی پاکستان قائد اعظم کے عقائد نہ میں سے تعلق انہیں مقدمات و مبادی کو تسلیم کرنے کے بعد فتوی کیا مرتب ہوتا ہے؟ سرسید کا زمانہ گزرے ابھی ایک ہی گشت ہوئی ہے مکتوب نگار کے علم یا حافظ میں یقیناً یہ ہی ہوئی ہے مکتوب کے علم یا ہیں حقیقت محفوظ نہیں رہی کہ جمہور علماء کے حلقہ میں ان کا استقبال کی روش و انداز سے ہوا تھا ؟ وہ پیر پنچر شائد مرزائے قادیان اور اُس کے پیرو نچری شائد قادیانیوں سے کچھ بڑھ چڑھ کرہی تھے اور ان کے اسلام کا دعوی کرنا حریق اجماع" کا مرتکب ہونا تھا۔آپ اسے مبالغہ سمجھ رہے ہیں ؟ مولوی امادا اعلی مرحوم کا رسالہ امداد الآفاق یہ ریم اہل النفاق کی لائبریری کے پرانے ذخیروں میں بادیایا ہوا ضرور پڑا مل جائے گا۔ذرا اسے ملاحظہ فرما لیا جائے یا اس زمانہ کے دوسرے اخبارات اور سالوں کی فائلوں کو لکھنو، دہلی، سہارنپور، رام پور، ہندوستان کے ہر ہر شہر کے فقہاء کرام کا متفقہ فتوئی اس شخص کے کفر و ارتداد اور اس کے کالج اس کی کانفرنس سب کی ملعونیت پر ناطق ملے گا۔دہلوی فتوئی آپ سنیں گے ؟ ا ایسے مکان ناپاک کا نام مدرسہ رکھنا اور عمل تعلیم وتحصیل سمجھنا آدمیت سے نکلنا ہے۔اور زمرہ حیوانات میں داخل ہوتا ہے۔۔۔صرف کر نا مال کا ایسے محل میں موجب کندہ ہونا جہنم اور ایسے بے حمل d میں سائی ہونا ہیمہ اور حطب بننا لازمی ہے اور لکھنوی فرنگی محلی مفتولی : به حیات جاوید حصہ دوم ص ) ( مولفہ مولانا الطاف حسین حالی) طبع اول :