تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 244 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 244

۲۱ حق نہ تھا۔اسے خاموشی ہی اختیار کر لینا تھی۔گویا انظار حق کا حق صرف اکثریت کو حاصل ہے۔اور جو فردا اپنے کو اس درجہ میں حق پر سمجھتا ہے لیکن چونکہ اقلیت میں ہے اس لئے اسے اکثریت پر جرح کا بھی حق نہیں اور اس پر لازم ہے کہ اگر وہ بے چون و چر اسیر اطاعت تم نہیں کرتا توکم از کم خاموش ہی رہے خواہ اس میں اپنے ضمیر و دیانت کا گلا ہی گھونٹ دینا پڑے۔اکثریت کی یہ نازک مزاجی مکتوب نگار خود غور کریں کہ کس حد تک معقول ہے۔کان اُن کے وہ نازک کہ گراں میری غزل بھی مکتوب میں کوئی نئی اور منتقل دلیل تکفیر قادیانیہ پرپیشیں کرنے کی بجائے اکتفا صرف اس پر کیا گیا ہے کہ یہ چونکہ دنیائے اسلام کا فتویٰ ہے متفقہ فیصلہ ہے۔فلاں فلاں بزرگوں کا اس پر اجماع ہو چکا ہے۔اس لئے یہ ہر صورت واجب التسلیم ہے لیکن گزارش یہی ہے کہ اتفاق رائے کا یہ منظر بے نظیر اند آخر کیسے قرار دے لیا گیا ہے ؟ یہ اتفاق و اجماع کب اور کسی فرقہ کی تکفیر سے متعلق ایسے ہی بزرگوں کا نہیں ہو چکا ہے ؟ کون فرقہ ایسا ہے۔کسی کی تکفیر کا اعلان بالظہر انہیں دلائل کے ماتحت اسی جوش و قوت کے ساتھ بار بار نہیں کیا جا چکا ہے ؟ کیا فرقہ شیعہ ؟ مولانا عبد الشکور صاحب لکھنوی تنظلہ ماشاء اللہ ابھی ہمارے درمیان بہ خیریت و عافیت موجود ہیں اور وہ یقینا اہل سنت کے ایک بڑے اور ممتاز عالم دین ہیں ذرا انہیں سے دریافت فرمایا جائے ان کے قلم کا مرتب کیا ہوا ء علمائے کہ ام کا متفقہ فتوی دی لفظ یاد رہے) درباب ارتداد شیعہ اثنا عشریہ بھی یاد میں تازہ ہے جس میں تیتر ریچ موجود ہے کہ شیعوں کی تکفیر میں کسی کو اختلاف ہو ہی نہیں سکتا اور تصریح در تصریح یہ کہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام، ان سے مناکوت ناجائز، ان کا جنازہ پڑھنا نا جائز ، انہیں اپنے جنازوں میں شریک کرنا نا جائز، ان کا چندہ اپنی مسجدوں میں لینا تا جائز۔غرض یہ کہ ان سے کوئی سا بھی معاملہ مسلمانوں کا سا کرنا جائز نہیں۔گویا سید کلب حسین اور لالہ بھگوان دین ایک سطح پر۔اس فتوی کفر و ارتدا و شیعر پر آپ دستخط سنیں گے کہ کن کن بزرگوں کے ہیں۔کہنا چاہئیے کہ سارے دیوبند کے مولانا مرتضیٰ حسن، مولانا حسین احمد، مولانا محمد شفیع ، مولانا اعزاز علی، مولانا اصغر حسین مولانا عقیل احمد مولانا محمد انور اعجب نہیں کہ یہ وہی مشہور فاضل عصر مولانا انور شاہ کاشمیری ہی ہوں) مولانا محمد طیب ، مولانا مفتی مهدی حسن شاہجہانپوری، مولانا محمد چراغ گوجرانوالہ، مولانا