تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 232
۲۲۹ ہمیں کیا توقع رکھنی چاہیے۔ہماری جمعیتہ العلماء پاکستان کے محترم صدر جو آج اسراری بھائیوں کے دوش بدوش پاکستان میں عقائدی جنگ کے علمبردار بنے ہوئے ہیں برائے خدا اتنا تو بتا دیں کہ قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد انہوں نے قادیانیوں کے خلاف کتنے احتجاجات کئے ؟ کیا انہوں نے مسلم لیگ کے ذریعہ سے قادیانی امید واروں کو اسمبلیوں میں کامیاب نہیں کیا کیا کام لیگی حکومت پاکستان نے جب چوہدری ظفر اللہ خان کو وزیر خارینہ فقر کیا تو کوئی احتجاج کیا گیا؟ جب دستور پاکستان کے لئے بنیادی حقوق کی کمیٹی میں چوہدری ظفر اللہ خاں کو لیا گیا تو کوئی احتجاج کیا گیا ؟ اور جب آپ نے اس کمیٹی سے علیحدگی کی خواہش ظاہر کی تو انہیں مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اس کمیٹی سے الگ نہ ہوئی اگر یہ سب حقائق ہیں تو پھر اس وقت راگنی کا مقصد کیا ہے ؟ پاکستان سے غداری نہیں کی جا سکتی :۔ہر پاکستانی جانتا ہے کہ استحکام پاکستان کے لئے تمام پاکستانیوں کا بلالحاظ امذ ہب و ملت متحد منظم رہنا ضروری ہے۔اس وقت کی ذرا سی لغزش نہ صرف پاکستانیوں بلکہ پاکستان کے ساتھ غداری ہے۔ایسی حالت میں فرقہ پرستی اور عقائدی جنگ کے حامی خواہ ان کی نیت صاف ہی کیوں نہ ہو سیاسی نوعیت سے پاکستان دوستی کا ہر گز ثبوت نہیں دے رہے بلکہ پاکستان کے قلب میں چھرا گھونپنے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام اس تحریک سے عدم دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔اے ے با ہوتا مہ کو ہسار کوئٹہ (ماہ اگست ۱۹۵۳ء) نے لکھا۔پاکستان سے ہندوؤں اور سکھوں کے انخلاء کے بعد خیال ایسا تھا کہ اس ملک میں اب فرقہ وارانہ قضیوں کے لئے کسی قسم کی گنجائش کا امکان نہیں ہوگا مگر یار لوگ پھیلا کی چکین سے بیٹھنے والے تھے ؟ فرقہ وارانہ ہنگامہ آرائی کے لئے آخر کار انہوں نے موقعہ تلاش کر ہی لیا۔احمدیت اور غیر احمدیت کا مسئلہ آجکل پاکستان کے بعض حصوں میں خطرناک حد تک نزاعی صورت اختیار کر چکا ہے۔اس ضمن میں ہمارے احراری دوست اور احمدیوں کا ایک طبقہ بہت پیش پیش نظر آتے ہیں۔جہاں تک احمدیوں کے عقائد کا تعلق ہے کوئی مسلمان انہیں اسلامی اصولوں کے مطابق ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔اس سلسلہ میں علمائے اسلام کے فتاوی اور بیانات واضح ہیں مگر ناظم حیدر آباد سندھ ۲۷ جولائی ۱۹۵۲ء بحواله الفضل کم ستمبر ۱۹۵۲ء مث :